Home نظم غلبئہ لات و منات ہے

غلبئہ لات و منات ہے

by قندیل

تازہ ترین، سلسلہ 97
فضیل احمد ناصری
ہر سمت اپنے خون کا نیل و فرات ہے
اپنا وطن ہے یا کوئی دشمن کی گھات ہے
پھیلی ہوئی ہے ملک میں اندھیر اس قدر
کھلتا نہیں کسی پہ، یہ دن ہے کہ رات ہے
ہم نے تو دل تمہاری ہتھیلی پہ رکھ دیا
مانو نہ تم ہنوز تو یہ اور بات ہے
لازم ہے تم پہ رہروو! ہر گام احتیاط
ہر ہر قدم بلائے کثیر الجہات ہے
چیخیں ہیں،اشکِ غم ہیں،لہو کی ہیں ندیاں
بھر پور مشکلات سے کل کائنات ہے
ہر وہ ستم شعار ہے، قاتل بنا ہوا
جس کی بھی دست رس میں قلم اور دوات ہے
اپنے جواں مشاعرہ گاہوں میں کیوں نہ جائیں
شعری نشست جلوہ گہِ شاعرات ہے
مسلم ہیں کفروفسق کی طغیانیوں میں گم
عالم میں آج غلبۂ لات و منات ہے
اے مومنو! رسولؑ کے دامن کو تھام لو
ان کی ہی ذات مشعلِ راہِ نجات ہے

You may also like

Leave a Comment