غزل

احمدعطاء اللہ
یہ پڑوسی ہیں جو سرگوشی پہ چونک اٹھتے ہیں
اور پگلی ہے کہ ہنستی ہی چلی جاتی ہے
انگلیاں دانتوں میں لے لی ہیں بڑے بوڑھوں نے
کیسی لڑکی ہے کہ ہنستی ہی چلی جاتی ہے
ماتمی گھر سے ذرا دائیں طرف کونے میں
ایک کھڑکی ہے کہ ہنستی ہی چلی جاتی ہے
بڑبڑاتی ہے بہت تیز ہوا اور بارش
سرخ چھتری ہے کہ ہنستی ہی چلی جاتی ہے
کھاتا جاتا ہوں بہت قسمیں نہ ملنے کی اسے
وہ کمینی ہے کہ ہنستی ہی چلی جاتی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*