غزل

نائلہ شیخ فلاحی
سرِ محفل کوئی رسوائی گوارا بھی نہیں
میں بھی خاموش رہی اس نے پکارا بھی نہیں
آئینے کس لیے ناراض ہوئے ہیں مجھ سے
میں نے وہ عکس ابھی دل میں اتارا بھی نہیں
جاں لٹانی پڑی اس میں تو لٹاؤں گی ضرور
یہ محبت کا خسارا تو خسارا بھی نہیں
خاک ہی خاک مری چاک پہ رکھی ہوئی ہے
کوزہ گر نے تو مرا نقش ابھارا بھی نہیں
نائلہ رُت یہ بہاروں کی کہاں جانے لگی
ٹھیک سے خود کو ابھی میں نے سنوارا بھی نہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*