غزل

اقبال عظیم
اپنے مركز سے اگردور نكل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے !
اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے ؟
خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو ؟
دھوپ اتنى تو نہیں ہے كہ پگھل جاؤ گے !
اپنے پرچم کے کہیں رنگ بُھلا مت دینا
سُرخ شعلوں سے جو كھيلو گے تو جل جاؤ گے
دے رہے ہیں تمھیں جو لوگ، رفاقت کا فريب
ان كى تاريخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے
اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو
سنگِ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے !
تيز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھِیڑ میں سُست چلو گے تو کچل جاؤ گے !
ہم سفر ڈھونڈو، نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے !
تم ہو اک زندہ ٕجاوید روایت کے چراغ !
تم کوئی شام كا سورج ہو کہ ڈھل جاؤ گے ؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*