غزل

نائلہ شیخ فلاحی
اور اس کے سوا نہیں کوئی
کیسے کہہ دو ں خدا نہیں کوئی
ہجر بخشا ہوا ہے آپ نے جو
اس سے بڑھ کر سزا نہیں کوئی
آپ کی دید ہو نہیں پائی
شعر میں نے لکھا نہیں کوئی
رب نے بخشی ہوئی ہے ہر نعمت
کیسے کہہ دوں عطا نہی کوئی
ان کی خاطر مجھے سنورتا ہے
گھر مرے آئینہ نہیں کوئی
ہم نے چلنا ہے اب تری جانب
دوسرا راستہ نہیں کوئی
اس لیے آپ دل میں رہتے ہیں
آپ سا دوسرا نہیں کوئی
بس انا نے تری بنایا ہے
ویسے یہ مسلہ نہیں کوئی
دوریاں درمیان ہیں کیسی
تجھ سے جب فاصلہ نہیں کوئی
نائلہ ڈھونڈتی رہی لیکن
تیرے جیسا ملا نہیں کوئی

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*