Home غزل غزل

غزل

by قندیل

 

حسیب الرحمٰن شائق
میری آرزو کےچراغ کو وہ ہواکاجھونکا بجھانہ دے
مجھےخوف ہے کوئی نازنیں مرےدردِ دل کو بڑھا نہ دے

میری داستانِ وفاکو تو یونہی ہنس کے دل سے بھلا نہ دے
میں خزاں رسیدہ چمن نہیں مرےآشیاں کو جلا نہ دے
سرِراہ مجھ پہ کرم کیا جوخزانہ غم کا وہ دے گیا
میرا ہمسفر کہیں آج ہی کسی راہ زن سے بتا نہ دے
ابھی سادہ ہیں کئی اک ورق مری داستانِ حیات کے
کہیں لے کے بدلہ یہ زندگی مجھے خوں کے آنسو رلا نہ دے
میرا خانماں ہے لٹا ہوا , میرا حوصلہ ہے مٹا ہوا
میری بے نوائی کو دیکھ کر کہیں بزم سے وہ اٹھا نہ دے
میرا نام دل کی کتاب میں جو لکھا ہے رکھنا حجاب میں
مجھے ڈر ہے اپنے رفیق سے کہیں راز یہ تو بتا نہ دے
تجھے اس نے کیسی شراب دی کہ ترا جمال نکھر گیا
ذرا دیکھنا کہیں اےقمر! کوئی بجلی تجھ پہ گرا نہ دے
تجھے کیاہوا ہے کہ روزوشب کہ پھرا کرے ہے غزل بہ لب
تو بتا کہ اس کا ہےکیا سبب یونہی عمر ساری بتا نہ دے
تیری زندگی میں بہار ہے , میری زندگی میں غبار ہے
ذرارحم کر تو حسیب پر اسے یونہی درسے بھگا نہ دے

You may also like

Leave a Comment