غزل

نائلہ شیخ فلاحی
دھڑکنوں سے قریب لاؤں تو
میں تیرا حوصلہ بڑھاؤں تو
ہوبہو جو تمہارے جیسا ہو
عکس ایسا کوئی بناؤں تو
پورے اتروگے کیا امیدوں پر؟
میں اگر تم کو آزماؤں تو
تو نے کھینچی لکیر بیچ میں کیوں؟
میں بھی اب فاصلہ بڑھاؤں تو
لاکھ کوشش کرو بھلانے کی
میں تمھیں پھر بھی یاد آؤں تو
حال تیرا بھی ہے مرے جیسا
اور اگر میں بھی مسکراؤں تو
میری آنکھوں سے جان لو گے کیا
بات کوئی جو کہہ نہ پاؤں تو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*