غزل

احمدعطاء اللہ
پوری لیں تصویر تو آدھی آتی ہے
یار یہ دنیا کس کو پوری آتی ہے
پورے چاند میں پڑھا کتابی چہرے کو
شکر ہے گاؤں میں کم کم بجلی آتی ہے
تین اضافی تِل ہیں بائیں شانے پر
مجھ کو بس سولہ تک گنتی آتی ہے
ہونٹ نہیں تو ہاتھ رکھو ان ہونٹوں پر
ورنہ مجھ کو پوری گالی آتی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*