غزل

حسیب الرحمٰن شائق

وہیں راستہ نکالو جہاں رہ گزر نہیں ہے
یہ توفکرِماسواہے,کوئی رہ گزر نہیں ہے

غمِ عشق کو نہ چھیڑو تمہیں کچھ خبر نہیں ہے
غمِ عشق ہے یہ پیارے کوئی دردِ سر نہیں ہے

نہ تو جلوتوں میں اپنا , نہ تو خلوتوں میں اپنا
کوئی ہمنشیں نہیں ہے,کوئی ہمسفر نہیں ہے

یہ چمن میں کون آیا مرا آشیاں جلانے
مرےحوصلے کی شایداسےکچھ خبرنہیں ہے

توہی کہہ میں کیسےدیکھوں کسی آئنےمیں صورت
کوئی آئینہ نہیں ہے , کوئی شیشہ گر نہیں ہے

میں گلوں کےرنگ وبوسےہوں چمن میں بھی پریشاں
انھیں کس نےبخشی زینت مجھے کچھ خبر نہیں ہے

مری بات مان لےتو رہِ وعظ چھڑدےتو
تری بات میں اےناصح کوئی اب اثر نہیں ہے

اےحسیب ناز کیوں ہے تجھےاپنی شاعری پر
یہ خدا کا ہے عطیہ , یہ تراہنر نہیں ہے

  • ابوالجیش
    21 جنوری, 2018 at 11:11

    بہت خوب

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*