غزل

ڈاکٹر احمد امتیاز

اسسٹنٹ پروفیسر شعبئہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی

غم کی ہلکی آنچ کہاں سے لاؤں میں

دل ٹوٹا ہے دل کو کیا سمجھاؤں میں

تم سوچو ہو رات سکوں سے کٹتی ہے

تم کیا جانو رات کو کیا کیا پاؤں میں

 شبنم آنسو ایک نہیں ہو سکتے ہیں

 شب میں پیلی دھوپ کہاں سے لاؤں میں

سورج چندا تارے روٹھے بیٹھے ہیں

تیری خاطر کس کس کو پھسلاؤں میں

نیلی پیلی ہلکی پھلکی ویرانی

گھر کے اندر جانے سے گھبراؤں میں

ٹوٹے پھوٹے رشتوں کا اب کیا کرنا

تنہائی ہے، تنہا ہی اٹھلاؤں میں

  • Abdul Malik
    18 جنوری, 2018 at 08:26

    تم سوچو ہو رات سکوں سے کٹتی ہے
    تم کیا جانو رات کو کیا کیا پاؤں میں, بہت خوب، بہت عمدہ،

  • محمد شاہ رخ
    18 جنوری, 2018 at 10:30

    نیلی پیلی ہلکی پھلکی ویرانی۔۔۔۔۔
    گھر کے اندر جانے سے گھبراوں میں۔۔۔
    آہ کیا غزل ہے جواب نہیں

  • Mohd anees
    18 جنوری, 2018 at 12:26

    Purani yadaen ताज़ा hogai

  • محمدأمجد أستاذاللغة في الجامعة الإسلامية مظاهرعلوم سهارنفور الوقف
    18 جنوری, 2018 at 16:30

    شبنم آنسوں ایک نهيں ہوسكتے……….. بهت خوب ماشاء الله….. بارك فيك

  • Azmatunisa
    18 جنوری, 2018 at 23:07

    شبنم آنسو ایک نہیں ہو سکتے ہیں
    شب میں پیلی دھوپ کہاں سے لاؤں میں واہ لا جواب

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*