غزل

سلیم شوق پورنوی
چلو کہ جام بھریں رقصِ واشگاف کریں
چلو کہ حجرۂ ساقی میں اعتکاف کریں

جناب شیخ بھی آئے ہیں بادہ خانے میں
انہیں کہو کہ خرابات کا طواف کریں

چلو کہ چل کے محبت کا اعتراف کریں
اصولِ اہل عداوت سے اختلاف کریں

یہ سرد راتیں مجھے چین ہی نہیں دیتیں
چلے بھی آؤ کہ اب تم کو ہم لحاف کریں

ہوائے شہر موافق نہیں ہے گلشن کے
گلابِ دل پہ محبت کا اب غلاف کریں

امیرِ شہر کے قدموں میں، میں نہیں گرتا
وہ چاہے سارا زمانہ مرے خلاف کریں

فقیہِ شہر کی طاعت تو لازمی ہے مگر
ہمیں یہ حق ہے کہ ناحق سے اختلاف کریں

مجھے گھسیٹ کے لائیں نہ اب سیاست میں
خدا کے واسطے اس سے مجھے معاف کریں

جناب ِ شوق زباں پر شکایتیں کیسی ؟
کہا تھا کس نے میاں عین شین قاف کریں

  • سعید الرحمن سعدی
    14 جنوری, 2018 at 07:26

    شاندار
    زبردست
    لاجواب
    اللہ کرے زور سخن اور ہو زیادہ

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*