غزل


حسیب الرحمٰن شائق

مئے اور بڑھا ساقی! طلبگار بہت ہیں
آئے ہوئے در پہ ترے میخوار بہت ہیں

اے خالقِ دنیا! تو ذرا ہم پہ کرم کر
تو بخش دے ہم کو کہ گنہگار بہت ہیں

موسم کی خرابی,یا سبب اور کوئی ہے؟
اب پیروجواں دیکھئے بیمار بہت ہیں

اللہ ہی محافظ ہے مددگار ہے میرا
دشمن تو مرے درپئے آزار بہت ہیں

انصاف ملے مجھ کوبتا کیسے اے شائق!
"مجرم کےعدالت میں طرفداربہت ہیں”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*