غزل


انجیل صحیفہ

میں کوئی دھن لے کے آؤں، تُو اسے الفاظ دے
انگلیاں تھرکا لبوں پر ،گیت گا اور ساز دے

اتفاقاً میں بچھڑ جاؤں کسی شب خواب میں
ہڑبڑا کر آنکھ کھولے، تُو مجھے آواز دے

رنگ میرا گندمی سا، بال گھنگرالے سے ہوں
پھول لہجہ ، دیپ آنکھیں ،مشرقی انداز دے

ہائی فائی ہوٹلوں میں کیوں کوئی لیوش ڈنر؟
گاؤں لے کر چل مجھے اور دعوتِ شیراز دے

رات میں چھت پر کھڑی یہ چاند سے کہنے لگی
آ مجھے دل سے لگا، تنہائیوں کے راز دے

نیلےسیّارے پہ آ ،کافی پئیں ،باتیں کریں
روبرو اک شام, ملنے کا مجھے اعزاز دے

آسماں،مریخ، تارے، کہکشاں،بادل، ہوا
سارے مجھ سے کہہ رہے ہیں روح کو پرواز دے

ہے عجب خواہش کہ میں انجام پہلے دیکھ لوں
تُو کہانی ختم کر اور پھر اِسے آغاز دے

  • شاہد
    26 جون, 2019 at 05:18

    اردو ادب کو ہماری نئی نسل نے پتہ نہیں ایک الگ ہی رخ دینا شروع کر دیا ہے.
    لہذا اب ادب کے رخ کو ذرا تبدیل کرنے کی ضرورت ہے..

  • احمد علی برقی اعظمی
    19 ستمبر, 2019 at 10:25

    وہ غزل پہلے کبھی تھی جو حدیث دلبری
    کرتی ہے اب وہ احاطہ عصری موضوعات کا
    احمد علی برقی اعظمی

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*