غزل

عبید الکبیر ،جامعہ نگر ،نئی دہلی
شکستِ خواب کی روداد کیا کہیں تم سے
ہوئے ہیں کس طرح برباد کیا کہیں تم سے
متاعِ کوچہ وبازار بن چکے ہیں میاں
ادیب وشاعر ونقاد کیا کہیں تم سے
ہے سنگ اٹھانے کا انجام گوشۂ زنداں
سگانِ شہر ہیں آزاد کیا کہیں تم سے
گلوں نے اپنے تبسم کی کیا سزاپائی
صبا کے لب پہ ہے فریاد کیا کہیں تم سے
قفس حلال ہوا اور آشیانہ حرام
عبث ہے شکوۂ صیاد کیا کہیں تم سے
وہ لوح وحرف کہ جن سے لہو ٹپکتا ہے
ہیں کس کے ظلم کی ایجاد کیا کہیں تم سے
ہم اپنی شمعِ سخن کو جلائے رکھےّ ہیں
عبیدؔ طبع کی افتاد کیا کہیں تم سے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*