غزل

گلفام بابر
مری دھڑکنوں کو ملال ہے، مرے لب پہ ایک سوال ہے
وہ اکیلا چھوڑ کے کیا گیا مرا تن بدن بھی نڈھال ہے
مری گفتگو کا نکھار بھی ،مری شاعری کا جمال بھی
کسی بےوفا کا کرم نہیں، یہ تو خود کا اپنا کمال ہے
یہ دیار کیسا دیار ہے ، کہ غریب جیسا مکان ہے
میاں عاشقی تو ہے بعد میں، یہاں زندگی بھی محال ہے
کہیں ہجر ہے کہیں قربتیں، کہیں وصل ہے کہیں رنجشیں
نہ رفاقتوں کو دوام ہے ،نہ محبتوں کو زوال ہے
تری بےرخی کا جواب دوں، تجھے لا کے ایک گلاب دوں
یہ خیال دل سے نکال دے، صنم ایسا اب تو محال ہے
مجھے اپنے پیار کا واسطہ، تجھے تنہا چھوڑ نہ جاؤںگا
میں تری طرح نہیں بےوفا، مجھے چاہتوں کا خیال ہے
یہی مشغلہ مرا رات دن، کہ میں جینا سیکھ لوں تیرے بن
ترا سامنا نہ ہو پھر کبھی، یہی رب سے میرا سوال ہے
بھلا کس کو مجھ سے لگاؤ ہے، مرا کس کو اتنا خیال ہے
ذرا نام اس کا بتا مجھے، مرے غم میں کون نڈھال ہے
مجھے غربتوں کی ملی سزا، مجھے دوستوں نے بھلا دیا
یہ کرم بھی سب کا کمال ہے، نہ کسی کو میرا خیال ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*