غزل

سلیم صدیقی
جسم سے جاں کو جدائی چاہیے
زندگی کو اب رہائی چاہیے
میں نے تو بس پیار مانگا ہے ترا
کب کہا میں نے خدائی چاہیے
میں جلال الدین اکبر ہوں مجھے
کچھ نہیں بس جودھا بائی چائیے
سر نہیں دستار بھی دیجیے اسے
عشق کو گاڑھی کمائی چاہیے
چاند دوں تحفے میں یا پھر آفتاب
کچھ نہ کچھ تو منہ دکھائی چاہئے
ہر گنہ سے میں بری ہوجاؤں گا
بس لباسِ پارسائی چاہیے
خود سے بچھڑے ایک عرصہ ہوگیا
اب مجھے خود تک رسائی چاہیے
دل وفاداروں سے میرا بھر گیا
اب تمہاری بے وفائی چاہیے
چاندنی کا ساتھ حاصل ہو نہ ہو
جگنوؤں سے آشنائی چاہیے
کہ دیا ناں میری دنیا توہی ہے
اس پہ کیا کوئی صفائی چاہیے
شہرتیں حاصل نہیں ہوتیں یونہی
اس میں تھوڑی بے حیائی چاہیے
دردِ دل سمجھا کرے جو قوم کا
شوق ایسی پیشوائی چاہیے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*