غزل

احمدفرہاد
ازل سے جس کا تھا اسی کا وقت ہے
خدا کے بعد آدمی کا وقت ہے
نکھر رہے ہیں زخم بھی حروف بھی
یہ کیا عجیب سر خوشی کا وقت ہے
لگی رہیں گی اس گلی میں رونقیں
ہمارے بعد بھی کسی کا وقت ہے
وہ گھر سے آج آ رہی ہے سیر کو
یہ باغ کے لیے خوشی کا وقت ہے
تمہارے پاس زخم ہے تو کھول دو
ہمارے پاس بے حسی کا وقت ہے
ڈھلے جو دن تو آنے لگتا ہے خیال
کہیں سے میری واپسی کا وقت ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*