غزل

مشتاق احمدنوری
ٹھہر گیا مرے اشکوں کا قافلہ کب کا
میں ہو چکا ہوں ترے غم سے آشنا کب کا
اب اپنے چہرے پہ وہ تازگی نہ رونق ہے
اُتر چکا ہے ہر اک رنگِ خوش نما کب کا
بھٹکتا رہتا ہوں اب خواب کے جزیرے میں
گزر چکا ہے ان آنکھوں سے رت جگا کب کا
تمہاری یاد کی انگڑاٸیاں مچلتی ہیں
چلے بھی آٶ کہ ساون بھی آچکا کب کا
اب ان کا عکس اُبھرتا نہیں ہے آنکھوں میں
کہ چُور ہوگیا قربت کا آٸینہ کب کا
زمانہ ہوچکا آنکھوں میں خاک اُڑتے ہوٸے
روانہ ہوچکا اشکوں کا قافلہ کب کا
مری خموشی کسی طرح ٹوٹنے کی نہیں
لبوں میں جذب ہوا حرفِ مدّعا کب کا
تمام بکھرا ہوا ہے دبیز سنّاٹا
گزرچکا ہے صداٶں کا قافلہ کب کا
نہ جانے کب سے یہ بے برگ و بار ہے جاناں
ہمارا باغِ تمنّا اُجڑ گیا کب کا
بہت سکون ہے نوری زمیں کی پستی میں
بلندیوں کا نشہ تو اُتر چکا کب کا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*