غزل

گلفام بابر
بابر جفا شناس، ستم آشنا نہ تھا
شہرِ وفا میں کون اسے جانتا نہ تھا
دریا کے ساحلوں سے تھی میری بھی دوستی
"یہ ان دنوں کی بات ہے جب آئینہ نہ تھا”
لب پر ہنسی تھی دل سے کہا تھا کہ "الوداع”
اس آخری گھڑی میں بھی حرفِ گلہ نہ تھا
کیسے زمیں کو راکھ کا ملتا کوئی سراغ
دل میں لگی تھی آگ کوئی گھر جلا نہ تھا
میری انا کا دوسرا مفہوم مت نکال
تھا کچھ تقاضہ بزم کا تجھ سے خفا نہ تھا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*