غزل

حمادخان
میں کس جگہ جمال سے آگے نہیں گیا
لیکن ترے خیال سے آگے نہیں گیا
تمثیلیِ جمال کا قصہ ہوا تمام
کوئی تری مثال سے آگے نہیں گیا
میں نے خدا سے کچھ نہیں مانگا ترے سوا
دل ہی ترے سوال سے آگے نہیں گیا
کتنے کرشمہ ساز تھے جو پیچھے رہ گئے
کوئی ترے کمال سے آگے نہیں گیا
اس نے بھی اپنا ہاتھ بڑھایا نہیں اِدھر
اور میں بھی دیکھ بھال سے آگے نہیں گیا
دل نے اسے قبول کیا ہر کمی کے ساتھ
پر ذہن خدوخال سے آگے نہیں گیا
کھینچا ہر ایک نے مجھے اپنی طرف مگر
میں تھا کہ اعتدال سے آگے نہیں گیا
میں کتنی بار زیست میں ناکام ہوگیا
لیکن کبھی ملال سے آگے نہیں گیا
ہر کوئی سجدہ ریز تھا کعبے کے سامنے
پر میں صفِ نعال سے آگے نہیں گیا
سب نے غزل میں اپنی خدا تک سفر کیا
حمادؔ اس غزال سے آگے نہیں گیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*