غزل

ارشدعزیز
گھر بہ آتش ہے، ضیا بار سمجھ لیتے ہیں
میری مشکل کو مرے یار سمجھ لیتے ہیں
ایسے رستے پہ ہی چلنے کا پتا چلتا ہے
ہم عموماً جسے دشوار سمجھ لیتے ہیں
آپ دستک یا صداؤں سے پریشان نہ ہوں
ہم ہی دروازے کو دیوار سمجھ لیتے ہیں
ایسے سادہ ہیں یہ خوابوں کے دکاں دار کہ جو
راہ گیروں کو خریدار سمجھ لیتے ہیں
میری مشکل ہی سمجھ میں نہیں آنے والی
یہ اشارہ ہے، سمجھ دار سمجھ لیتے ہیں
ناتوانی کا یہ عالم کہ مرے شہر کے لوگ
ایک گریہ بھی گراں بار سمجھ لیتے ہیں
آپ ہی ہم کو گنہ گار بنانے والے
آپ ہی ہم کو گنہ گار سمجھ لیتے ہیں
ہم نے وہ چیز بھی سینے سے لگا رکھی ہے
سب جسے جان کا آزار سمجھ لیتے ہیں
کرنا پڑتا ہے یہ آغازِ محبت میں عزیز
ان کے اقرار کو اقرار سمجھ لیتے ہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*