غزل

ایمن جنیدخان
یہ مُحبت توایک جَھک ہے جناب
آپ کا انتخاب ، شک ہے جناب
کیا دیا ہے کسی کو پھر دھوکا ؟
آنکھ میں آپ کی چمک ہےجناب
آج پھر دل یہ ڈوبا جاتا ہے
دھڑکنوں کی بھی کیا دھمک ہے جناب
چار سو گیت گونجتے ہیں اب
بےوفا پنچھی کی چہک ہے جناب
چاند پھر چھپ گیا ہے بدلی میں
بے وفائی کی یہ جھلک ہے جناب
آپ بھی واہ واہ کرتے ہیں ؟
یہ غزل تو مری کسک ہے جناب
زخمِ ایمن پر آپ کو غم کیوں ؟
آپ کا ہی دیا نمک ہے جناب

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*