غزل

احمدحماد
ٹھنڈ بڑھتی ہے، تو انگار فشاں بولتا ہے
آگ بجھتی ہے تو بے چین دھواں بولتا ہے
یا تو ہوتا ہی نہیں مائلِ گویائی کوئی
یا پھر اس شہر میں ہر شخص اماں بولتا ہے
اے کہ شہ رگ سے بھی نزدیک، کبھی آنکھ میں آ
میرے ایمان کے پردے میں گماں بولتا ہے
کوئی تجھ جیسا لگے دیکھنے میں لاکھ، مگر
تیرے ملہار سے لہجے میں کہاں بولتا ہے
وہ مرے سامنے یوں گویا ہوا ہجر کی شام
جیسے برفاب پہاڑوں کا سماں بولتا ہے
رات ڈھلتی ہے تو یوں بولتے ہیں درد تِرے
جیسے معتوب قبیلے کا جواں بولتا ہے
یہ کرشمہ ہے کہ اعجازِخلوصِ نیت
بولتا ہوں تو مرے ساتھ جہاں بولتا ہے
ایک اظہار نہ کر پانے کے دکھ میں احمد
اب جہاں چپ کا تقاضا ہو، وہاں بولتا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*