جو ملا غموں کا یہ سلسلہ

افضال اختر قاسمی
میرا درد ہی میرا ہمنوا، میرے دشمنوں کو ہے کیا پتا؟
جو ملا غموں کا یہ سلسلہ، تیرا شکریہ تیرا شکریہ
یہ عداوتیں ہوں یانفرتیں، ہیں مرے لیے یہ محبتیں
کہ ملیں مجھے جو بلندیاں، میرےحاسدوں​ نے کیا عطا
نہ کوئی ہمارا شریک غم، نہ کسی کے غم میں شریک ہم
نہ کسی کا ہم نے بھلا کیا، نہ کسی کا ہم نے کیا برا
نہ کسی کے دل کا میں یار ہوں، نہ کسی کے خواب کا پیار ہوں
میں تو راہوں کا وہ غبار ہوں، جو کسی کے کام نہ آ سکا
ہے تو اجنبی نہ یہ گھر ترا، نہ زمیں تری نہ فلک ترا
تیری منزلیں کہیں اور ہیں، یہ جو جاری ہے٬ہے سفر ترا
کیا گلہ کسی سے اے ناطق اب، تجھے چھوڑتے ہیں اگرچہ سب
یہ بتا خدا بےخبر ہے کب ؟ وہی آسرا وہی آسرا

  • ولی اللہ
    5 جنوری, 2019 at 19:18

    ماشااللہ بہت ہی اچھی ہے.

  • ولی اللہ
    5 جنوری, 2019 at 19:22

    ماشااللہ بہت عمدہ لکھا ہے.
    جناب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ .

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*