غزل

نائلہ شعورفلاحی
پاس ایسی مرے کہانی ہے
جس میں راجا نہ کوئی رانی ہے
میں ہواؤں کے سنگ اڑتی ہوں
شوق میرا بھی آسمانی ۔۔۔۔ ہے
اپنے رشتے سنبھال کر رکھیے
مال و دولت تو آنی جانی ہے
ظرف نے مجھ کو روک رکھا تھا
اس نے سمجھا کہ ہار مانی ہے
پاس ہوکر بھی دور ہے مجھ سے
جانے کیسی یہ بدگمانی ہے
لوگ خود غرضیوں میں جیتے ہیں
کوئی آفت یہ ناگہانی ہے
نائلہ شعر میں نہیں کہتی
یہ مرے دل کی ترجمانی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*