غزل

احمدعطاء اللہ
ہوس دیوار کے دونوں طرف ہے
خوشی رخسار کے دونوں طرف ہے
وصال و ہجر تیرے قافیے ہیں
کہ تو اشعار کے دونوں طرف ہے
کوئی نیکی بدی کب کام آئی
یہ پتھر غار کے دونوں طرف ہے
خدا ہی پالنے والا ہے سب کا
ہوا کہسار کے دونوں طرف ہے
جو دونوں سمت تھا ہر مصلحت میں
وہ اب تلوار کے دونوں طرف ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*