غزل

ارکان احمدصادق
حالتِ ہجر میں فغاں کا دُکھ
اپنی جاں اور جانِ جاں کا دُکھ
آج دیکھا ہے ماں کو روتے ہوئے
آج جانا ہے کیا ہے ماں کا دُکھ
ان پرندوں کو مارتا کیوں ہے
تو سمجھتا ہے بے زباں کا دُکھ ؟
جب ستارے زمیں پہ گِرتے ہیں
میں سمجھتا ہوں آسماں کا دُکھ
فاصلہ وہ کبھی نہیں رکھتا
جو سمجھتا ہے درمیاں کا دُکھ
چیختا کیوں ہے یہ اندھیرے میں
کوئی پوچھے تو اس مکاں کا دُکھ
وہ جوانی میں مرنا چاہےگا
جو سمجھ جائے گر خزاں کا دُکھ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*