غزل

انجیل صحیفہ
فضامیں رنگ سےبکھرےہیں چاندنی ہوئی ہے
کسی ستارے کی تتلی سے دوستی ہوئی ہے
مری تمام ریاضت کاایک حاصل ہے
وہی دعا،جو تیرے نام سے جڑی ہوئی ہے
میں حادثے سے نکل آئی ہوں مگر دیکھو
زمین اب بھی میرے جسم پر پڑی ہوئی ہے
ابھی تو تُو نے میرا ہاتھ بھی نہیں تھاما
یہ کس خبر سےزمانے میں سنسنی ہوئی ہے
اداسی جونک ہے،یہ خون چوس لیتی ہے
یہ بات میں نے کہیں اور بھی سنی ہوئی ہے
میں تیرے لمس کے جادو سے خوب واقف ہوں
وہ شاخ ہوں،جو تیرے ہاتھ پر ہری ہوئی ہے
جوآنکھیں سینک رہے ہیں، انہیں خبرہی نہیں
یہاں پہ خواب جلے ہیں،تو روشنی ہوئی ہے
میں لال رنگ لگاتی تھی نیلے خوابوں کو
اسی لئے تو یہ تعبیر کاسنی ہوئی ہے
وہ میرے بارے میں کیا سوچتا ہے کیا معلوم
خدا سے میری ملاقات سرسری ہوئی ہے
میں پچھلےسال کی تصویربھیج دیتی تجھے
مگر یہ ایک طرف سے ذرا جلی ہوئی ہے
مزا توجب ہےکہ انجیل ہی لگے سب کو
نزولِ عشق پہ جتنی بھی شاعری ہوئی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*