غزل


لاریب ملک
وہ نیچے بیٹھا ہوا جیسے سوچ سکتا ہے
زمیں پہ سیب اسی زاویے سے گرتا ہے
وگرنہ ٹھیک تو ہے سب نظام دنیا کا
یہ سب خرابہ میرے سوچنے سے بنتا ہے
جو بات دل میں ہے سیدھی زبان پر لے آ
تو چھوڑ اس کو زمانہ تو کچھ بھی کہتا ہے
میں ایک روز اسی پر یقین کر لوں گی
تیرا گمان میری دسترس میں رہتا ہے
میں جانتی ہوں بصارت کا عیب ہے لیکن
کبھی کبھی تیرا چہرہ سنائی دیتا ہے
سو جو کمی ہے وہ میری وجہ سے ہے اس میں
وہ خود سے ڈھیر تو میری نظر میں ہوتا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*