غزل

حسیب الرحمٰن شائق

قصرِ تمنا آج یہ مسمار دیکھ کر
بےحداداس ہوں انہیں بےزار دیکھ کر

ہمت جواں ہے,میں ہوں اگرچہ نحیف تر
بےبس نہ سمجھے کوئی بھی زنہار دیکھ کر

قاتل کی تاج پوشی کی چھپ ہی گئی خبر
سہمے ہیں سارے سرخئ اخبار دیکھ کر

اس دورِبےضمیر کے انساں کو دیکھئے
ایمان بیچ دیتے ہیں دینار دیکھ کر

بےچین اہلِ دل ہیں پریشان ہیں بہت
انسانیت کا گرتا یہ معیار دیکھ کر

جو محورِ امید و تمنا و آس ہے
مرتاہوں اسکےہاتھ میں تلواردیکھ کر

اب آخرش وہ جان گئے,ان سے پیار ہے
مجھ کوحسیب!شائقِ دیدار دیکھ کر

  • عظمت النساء
    11 فروری, 2018 at 12:14

    اس دورِبےضمیر کے انساں کو دیکھئے
    ایمان بیچ دیتے ہیں دینار دیکھ کر
    واہ کیا صداقت ہے…

Leave Your Comment

Your email address will not be published.*