غزل

حسیب الرحمن شائق یکہتہ مدھوبنی
جو سحر ہو خوں میں ڈوبی ہوئی میری زیست میں وہ سحر نہ ہو
جو ثمر نہ دے کبھی اے خدا میرے باغ میں وہ شجر نہ ہو
سرِراہ اس نے کرم کیا جو خزانہ غم کا وہ دے گیا
مجھے خوف میرے ہم سفر! کسی راہ زن کو خبر نہ ہو
تیرے پیش رو نہ دیں راہ گر تو بلند حوصلہ اور کر
وہیں راستہ تُو نکال پھر جہاں کوئی راہ گزر نہ ہو
یہ چراغِ ذکرِ حبیب ہم جو جلائے بیٹھے ہیں شام سے
ہمیں خوف ہے کسی آندھی کا کہیں اس طرف سے گزر نہ ہو
میرے دل میں آرزو ہے یہی شبِ ہجر ختم ہو جلد ہی
شبِ وصل اتنی طویل ہو کہ کبھی بھی اس کی سحر نہ ہو
رہِ آخرت ہے وہ پُرخطر کبھی اس کی فکر بھی کر حسیب!
کہیں وقت کوچ کا آئے اور تیرے پاس رختِ سفر نہ ہو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*