غزل

کامران غنی صبا
نظر کا دل پہ لگا تیر ہے، نہیں ہے نا؟
تو پھر یہ عشق کی تاثیر ہے، نہیں ہے نا؟
چھلک پڑے مری آنکھوں سے کس لیے آنسو
یہ میرے یار کی تصویر ہے، نہیں ہے نا؟
بلاسے منزل دار و رسن ہے دور بہت
ہمارے پاؤں میں زنجیر ہے، نہیں ہے نا؟
اسی لیے تو مری بات سن رہے ہیں لوگ
جنابِ شیخ کی تقریر ہے، نہیں ہے نا؟
تو پھر عدو سے بھلا کون ڈرنے والا ہے
زباں پہ نعرئہ تکبیر ہے، نہیں ہے نا؟
بہت سنبھال کے رکھے ہوئے ہو کیوں آخر
یہ میرا خط مری تحریر ہے، نہیں ہے نا
یہ مانتا ہوں کہ اشعار اچھے کہتا ہے
مگر صبا بھی کوئی میر ہے، نہیں ہے نا؟

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*