غزل

عباس تابش
نیند آتے ہی مجھے اس کو گزر جانا ہے
وہ مسافر ہے جسے میں نے شجر جانا ہے
چاند کے ساتھ بہت دور نکل آیا تھا
اب کھڑا سوچتا ہوں میں نے کدھر جانا ہے
اس کو کہتے ہیں ترے شہر سے ہجرت کرنا
گھر پہنچ کر بھی یہ لگتا کہ گھر جانا ہے
گر نہ باز آیا مجھے بار سمجھنے والا
میں نے چلتی ہوئی کشتی سے اتر جانا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*