غزل

ارکان احمدصادق
کسی کا مرنا کسی کا جینالگا ہوا ہے
اسے بنانے میں خوں پسینہ لگا ہوا ہے
اک آشیانے میں ہم جو مل کر بسے ہوئے ہیں
اسے جلانے میں اک کمینہ لگا ہوا ہے
میں اتنی جلدی تو مرنے والا نہیں ہوں بھائی
مجھے بنانےمیں نومہینہ لگاہوا ہے
خدا کرے اس چمن میں پھر سے بہار آئے
دعا میں کاشی بھی اور مدینہ لگا ہوا ہے
یہ کچھ منٹ کیلیے ہیں لہریں چلے بھی آؤ
وہیں ذرا ہٹ کے اک سفینہ لگا ہوا ہے
یہ آخری سیٹی ریل گاڑی کی بج چکی ہے
اور اس کے سینے سے میرا سینہ لگا ہوا ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*