غزل

جوادشیخ
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
ہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے
کبھی اُسکی نگہ میسر تھی
کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے
بات ہم نے سُنی ہوئی سُنی تھی
کام اُس نے کیے ہوئے کیے تھے
اُسے بھی ایک خط لکھا گیا تھا
اپنے آگے بھی آئنے کیے تھے
یہاں کچھ بھی نہیں ہے میرے لیے
تُو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے
اوّل آنے کا شوق تھا لیکن
کام سارے ہی دوسرے کیے تھے
بڑی مشکل تھی وہ گھڑی جوّاد
ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*