غزل


انجیل صحیفہ
مجھ کو جو میسر تھا، سنگ لے گیا ہے تُو
یعنی میرے جیون سے، رنگ لے گیا ہے تُو
کیسے گنگنائے گی، گیت کیسے گائے گی
چہچہاتی چڑیا کا چنگ لے گیا ہے تُو
کس کے نام کی مہندی؟ کیسی کانچ کی چوڑی؟
میرے سج سنورنے کا، ڈھنگ لے گیا ہے تُو
روز تجھ سے لڑتی تھی، روز جیت جاتی تھی
خود سے جیتنے والی، جنگ لے گیا ہے تُو
برف رنگ سے ڈھک کر، منظروں کی عریانی
اس غریب وادی کا ننگ لے گیا ہے تُو
آئنے میں دیکھا تو، صرف مَیں نظر آئی
مجھ کو لگ گیا تھا جو، زنگ لے گیا ہے تُو
ہاتھ رکھ کے سینے پر، چیخنے لگا ہے جسم
جو بہت ضروی تھا ،انگ لے گیا ہے تُو
رنگ رنگ موسم سب ،جس کو دیکھ کھلتے تھے
اس کی شوخ آنکھوں سے ،شنگ لے گیا ہے تُو
حبس، خوف، خدشے، ڈر،گرد اور دھواں انجیل
جن سے سانس ہوتی تھی تنگ ، لے گیا ہے تُو

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*