غزل

انجم سلیمی
کیا یہی ہجر ہے، سب جس سے ڈراتے ہیں مجھے
نیند بھی لیتا ہوں میں،خواب بھی آتے ہیں مجھے
دم بخودسوچتارہتاہوں کہیں سچ تو نہیں
لوگ جو کچھ میرے بارے میں بتاتے ہیں مجھے
یادرکھتاہوں سدا گزراہوامستقبل
رفتگاں سے مرےاوہام بچاتے ہیں مجھے
عام ساآدمی ہوں میراتعارف کیسا
ہاں کسی نام سےکچھ لوگ بلاتےہیں مجھے
میری مٹی سے بہت خوش ہیں مرے کوزہ گر
ویسابن جاتا ہوں میں جیسا بناتے ہیں مجھے
میں، ہوس گیرِ جہاں تیری تجوری کا نہیں
میرے احباب تومحنت سے کماتے ہیں مجھے
میں نے دیکھا کہ میں اک سادہ ورق ہوں اور لوگ
چُومتےہیں کبھی آنکھوں سے لگاتے ہیں مجھے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*