غزل

حسیب الرحمٰن شائق

پہلے وہ جرم کوئی تو ثابت مرا کرے
پھر جاری مجھ پہ شوق سےحدّوسزا کرے

رخسارِگل پہ ہاتھ نہ اپنا رکھا کرے
حرکت نہ ایسی جرأتِ بےجا صبا کرے

ہم نے دکھا کے آئنہ زلفیں سنورا دیں
نکھرے اگر نہ اب بھی وہ,پھرکوئی کیا کرے

دراصل شوق , ذوق , تمنا تو ہے وہی
شام و سحر کی قید سے جو ماورا کرے

اکل حلالِ ہے نہ ہی صدقِ مقال ہے
کیسے اثر ہماری یہ آہ و بکا کرے

لاریب ہے جہان میں وہ شخص مالدار
پیدا جو اپنے نفس میں یارو ! غنا کرے

امید و آس کا وہی محور ہےاےحسیب!
"ایسا کبھی نہ ہو کہ وہ ترکِ وفا کرے”

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*