غزل

ابھیشیک شکلا
آنکھیں غبار خواب میں کھونے کے دن ہیں یہ
سو جاؤ تم بھی چین سے،سونے کے دن ہیں یہ
ہونا تھا تجھ کو اور نہیں ہے تو ہائے ہائے
میں ہوں اگرچہ میرے نہ ہونے کے دن ہیں یہ
گریہ کی اک قدیم روایت ہے عشق میں
خود پر ہزار ڈھنگ سے رونے کے دن ہیں یہ
پا کر مجھے یوں خوش نہ ہو اے شہر نامراد
تو جانتا نہیں مرے کھونےکے دن ہیں یہ
دکھ مول لے رہا ہے جنہیں کوڑیوں کے بھاؤ
قیمت لگائی جائے تو سونے کے دن ہیں یہ
پھیکا ہے کائنات کا ہر رنگ ان دنوں
ان سے ہماری بات نہ ہونےکے دن ہیں یہ
برسات ہو رہی ہے مری خاک عمر پر
یعنی کہ خود کو جوتنے بونے کے دن ہیں یہ
مالائیں ٹوٹتی ہیں بکھرتی ہیں ان دنوں
سانسوں میں دکھ کے پھول پرونےکے دن ہیں یہ
ہونا نہ ہونا ایک ہے جن کا مرے لئے
میں سوچتا ہوں کون سےکونے کے دن ہیں یہ
ابھشیک! پار اترنے کا سودا فضول ہے
کشتی کسی بھنور میں ڈبونے کے دن ہیں یہ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*