غزل

حمادخان
کسے تمیز ذرا سی بھی نیک و بد میں ہے
ہر ایک شخص یہاں بے حسی کی زد میں ہے
ہم ایسا بے غرض انسان دور دور نہیں
ہمارے سامنے کل کائنات حد میں ہے
ہم ایسے عاشقِ مطلق کو بھی شکایت ہے
کچھ ایسا حال ہمارا ترے بلد میں ہے
ہماری قبر کے کتبے پہ یہ لکھا جائے
وفا پرست تھا جو شخص اس لحد میں ہے
کوئی تو اب مرے حاسد کو یہ خبر کردے
زوال نعمت علم و عمل حسد میں ہے
سنی سنائی دلیلوں کا اعتبار نہیں
وہ بات کر کہ لگے بس یہی سند میں ہے
مجھے خوشی ہے کہ حمادؔ میری ہر اک بات
کسی کے حق میں بھی ہے گر کسی کے رد میں ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*