غزل

نائلہ شیخ فلاحی
تیرگیِ الفت میں عارضی رفاقت میں
ہم کہاں پہ آ پہنچے آپ کی محبت میں
تیری شفقتوں کی کیا ہو مثال دنیا میں
ماں مجھے نظر آئے رب تری شباہت میں
ایک ٹوٹ جاتا ہے ایک توڑ دیتا ہے
اتنا فرق ہوتا ہے خواب میں حقیقت میں
جس کو دیکھو بس اپنی اپنی فکر لاحق ہے
کون ساتھ دیتا ہے کس کا اب مصیبت میں
جھوٹی شان و شوکت پہ آج لوگ مرتے ہیں
یہ فقط دکھاوا ہے کیا ملے گا شہرت میں ؟
چاہتوں کی ہر منزل سامنے ہمارے ہو
اتنا ہو اثر پیدا اب ہماری ہمت میں
باضمیر ہوکر گر ہم خدا سے ملتے ہیں
لطف اور آتا ہے نائلہ عبادت میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*