غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ادبی نشست کاانعقاد

نئی دہلی:گزشتہ روز غالب اکیڈمی ، نئی دہلی میں ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں شگوفہ کے مدیر مصطفی کمال نے شرکت کی۔ اسعد رضا نے ان کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پچاس سال سے مصطفی کمال صاحب شگوفہ نکال رہے ہیں۔ وہ درس وتدریس سے وابستہ رہے ہیں اور کئی سال تک مولانا آزاد یونیورسٹی میں بھی خدمات انجام دیں۔ نصرت ظہیر نے مصطفی کمال کا خاکہ پیش کیا۔ابن کنول نے رحمان بابا کے نام سے ایک خاکہ پیش کیا۔ اس موقع پر مصطفی کمال نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے نقادوں نے طنز و مزاح پر توجہ نہیں دی۔ ہندوستان میں آج تک اس کی تاریخ نہیں لکھی گئی۔طنز و مزاح نے سماجی انصاف کوزندہ رکھا۔ غالب نے اردو نثر کو پہلا موڑ دیا اور مشتاق احمد یوسفی نے دوسرا موڑ دیا۔شگوفہ نے اردو نثر کے اصناف میں اضافہ کیا۔ نشست کی صدارت جی آر کنول نے کی۔چشمہ فاروقی نے دل کے دروازے کے عنوان سے افسانہ پیش کیا اور شعرا نے اپنے اشعار پیش کئے۔
نشست میں امردیپ اوبرائے ونے ماہی ،سریتا جین نے بھی اپنے اشعار پیش کئے۔اسی نشست میں طلعت دلدار دہلوی، محمد خلیل،شاداب تبسم،محمد سلیم، شاداب حسین،اے رحمان اور دوسرے اہل ذوق حضرات موجود تھےـ