عید ملن کے نام پر پُر تکلف دعوتیں:مسلمانوں کے ساتھ مسلسل مذاق

عظیم اختر
M: 9810439067
دنیا بھر کے مسلمانوں کی دینی، ملّی اور سماجی زندگی میں گرچہ رمضان المبارک کے انتیس تیس دن اپنے فضائل کے لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں، جن میں ہمہ وقت رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے؛ لیکن دہلی ایسے شہر میں، جہاں نمازِ جمعہ سے پہلے خطبہ دے کر اخبارات میں فوٹو کے ساتھ خبر چھپوانے والے مفتیوں، مولویوں اورانجمنِ اصلاح معاشرہ، اتحادِ بین المسلمین جیسے موضوعات پر منعقد کی جانے والی سالانہ کانفرنسوں میں گھنٹوں تقریر کرنے والے علماے کرام اور دو مخالف گروپوں میں تقسیم ہو کر تبلیغ کرنے والے امیروں کی کمی نہیں ،اس کو ایک المیہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ ماہِ رمضان کے پہلے عشرے میں تو ان با برکت شب و روز کا تقدس اور احترام تو بڑی حد تک برقرار رہتا ہے؛ لیکن سپر فاسٹ اسپیڈ سے اس بارہ یوم میں پڑھی جانے والی تراویح کے سلسلے کے بعد بازاروں میں رونق بڑھنے لگتی ہے، دکانوں اور دکانوں کے باہر خریداروں کا کھوے سے کھوا چھلنے لگتا ہے اور سیاستدانوں اور سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دی جانے والے دعوتِ افطار اور عید کی باسی تواسی کو ملک کے اعلیٰ سیاسی اور سماجی گلیاروں میں امتِ مسلمہ کے وجود کو کیش کرنے والی ملی تنظیموں کے سربراہوں کی طرف سے نئی دہلی کے فائیو اسٹار اور عالی شان ہوٹلوں میں عید ملن کے نام پر دی جانے نہایت ہی پر تکلف اور Lavishپارٹیوں کی وجہ سےFastive Season کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور مساجد کے ممبروں سے اس مقدس ماہ کے فضائل کے بارے میں ائمۂ مساجد کا بیان فضاؤں میں گونجتا رہتا ہے۔
اس حقیقت سے شاید ہی کوئی انکار کرے کہ ہمہ شما کے دسترخوان پر روزہ افطار کر کے روزہ کے ثواب کو ضائع کرنے اور اس کے تقدس کو ٹھیس پہنچانے کی بجائے شریعت میں پاک و صاف شخصیت اور حلال روزی کمانے والوں کے دسترخوان پر روزہ افطار کرنے کے بڑے واضح احکامات موجود ہیں ؛لیکن سیاستدانوں، سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داروں اور چھوٹے بڑے کاروباری کی طرف سے دی جانے والی دعوتِ افطار میں ،جن کے یہاں اکلِ حلال کا وہ تصور موجود ہی نہیں ہے، جس کا حکم اسلام نے دیا ہے اور جن کے یہاں سود کے لین دین کے بغیر کوئی بیل منڈھے ہی نہیں چڑھتی، روزہ دار مسلمانوں کا جمِ غفیر ان احکامات کی کھلّی اڑاتا نظر آتا ہے۔ خالصتاً دنیا داری اور سیاسی مقاصد کی برآری کے لیے نہایت اہتمام سے منعقد کی جانے والی ان سیاسی افطار پارٹیوں میں جن کی داغ بیل آنجہانی ہیم وتی نند بہو گنا نے مسلمانوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ڈالی تھی، پر تکلف کھانا اور انواع و اقسام کے پھل و مشروبات لذتِ کام و دہن کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ؛لیکن اس روحانی کیف و سرور کی ہلکی سی تپش کا احساس بھی نہیں ہوتا، جو افطار کے وقت کا خاصہ ہے۔ فقہی نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے ،تو دنیاداری اور سیاسی مقصد برآری کے لیے دی جانے والی افطار کی اس قسم کی دعوتوں میں شریک ہونا روزہ کو ضائع کرنے سے کم نہیں؛لیکن حیرت و استعجاب کا مقام ہے کہ ہمارے علماے کرام نے عام مسلمانوں کو شرعی نقطۂ نگاہ سے اس قسم کی دعوتِ افطار سے پرہیز کرنے کا درس کبھی نہیں دیا، جس کے نتیجے میں ان دعوتوں کی سن گن ملتے ہی دہلی کے مسلمانوں بالخصوص سیاسی، سماجی ورکروں اور فلاحی تنظیموں کے ذمہ داروں میں کھلبلی مچ جاتی ہے، ان پارٹیوں میں شرکت کرنا ، سیاسی ، سماجی زندگی میں بلند مرتبہ شخصیتوں کے ساتھ فوٹو کھنچوانا اسٹیٹس سمبل بن چکا ہے؛ اس لیے دعوت نامہ حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی سفارشوں کا سہارا لیا جاتا ہے، افطار کی ان دعوتوں میں جن کے گرد کانوں میں رس گھولنے والے دل فریب نعروں کے ہالے بن دیے جاتے ہیں، عام طورپر گھس پیٹھ کر کے اور در در از کا سفر طے کر کے پہنچنے والے روزہ دار حضرات صرف بھیڑ کا حصہ بن کر رہ جاتے ہیں، جبکہ دعوت دینے والوں کی تمام تر توجہ کا مرکز صرف وہ بھاری بھرکم سیاسی شخصیت ہوتی ہیں ،جو روزے کی حرمت و تقدس سے صحیح معنوں میں واقف ہی نہیں ہوتیں۔
یہی حال عید سعید کی باسی تواسی کو مسلمانوں کے نام اور وجود کو مسلسل کیش کرنے والی ملی تنظیموں کے سربراہوں کی طرف سے عید ملن کے نام پر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں دی جانے والی پُر تکلف دعوتوں کا ہے، جن میں ان تنظیموں کے سربراہوں سے ذاتی تعلقات، ذہنی قربت اور عقیدت مندانہ وابستگی رکھنے والوں کے علاوہ ملک کی سیاسی زندگی میں بھاری بھرکم قد و قامت رکھنے والے سیاستدانوں، مسلم ممالک کے سفیرانِ کرام، تجارتی نقطۂ نگاہ سے غیر معمولی اہمیت رکھنے والے مسلمان تاجروں اور سرکار کے اعلیٰ عہدوں سے ریٹائر ہونے والے مسلم افسران کو بالخصوص مدعو کیا جاتا ہے؛ تاکہ ملک کی سیاسی، سماجی زندگی میں ان تنظیموں کے سربراہوں کے قدو قامت کو ہلکے میں نہ لیا جائے، عام کاروباری اور دفتری زندگی میں ہوٹلوں میں دی جانے والی اس قسم کی پارٹیوں اور دعوتوں کو اعلیٰ ترین پبلک ریلیشننگ کانام دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس قسم کی فلاحی تنظیموں کو مالدار تاجروں کی جانب سے بھاری عطیات کی شکل میں نہ صرفDividentملتا ہے ؛بلکہ برسرِ اقتدار سیاستدانوں کے الطاف و کرم کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں، ماضی قریب میں برسرِ اقتدار حکمراں کے اسی الطاف و کرم نے اتر پردیش کے چھوٹے سے چھوٹے علاقے میں سدھار کمیٹی کا الیکشن جیتنے کی صلاحیتوں سے محروم کچھ مولوی حضرات کو راجیہ سبھا میں پہنچا دیا تھا، دنیاوی نام و نمود حاصل کرنے اور ہندوستانی مسلمانوں کا بلا شرکتِ غیر قائد کہلائے جانے کا جذبہ بھی در اصل عید ملن کے نام پر اس قسم کی پر تکلف اور شاندار دعوتوں کا محرک ہے، ورنہ معاشی، سماجی، تعلیمی پستی اور غربت کے شکنجوں میں جکڑی ہوئی کسی بھی قوم کے با شعور اور فہم و فراست رکھنے والے قائد اس زمینی تعیش کے متحمل نہیں ہو سکتے؛لیکن یہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کی بد نصیبی ہے کہ ہمارے دینی و ملی قائدین صرف دنیوی مقصد کے لیے عید ملن جیسی دعوتوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ایک خوبصورت سا نام دے کر عطیات اور چندے وغیرہ کی شکل میں آئے ہوئے پیسے کو پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک منقسم تنظیم کے سربراہوں نے اپنی سیاسی و سماجی قدر و قامت اور وزن دکھانے کے لیے دہلی کے دو فائیو اسٹار ہوٹلوں میں عید ملن کے نام پر پر تکلف عشائیوں کا اہتمام کیا، دہلی کے فائیو اسٹار ہوٹلوں میں پر تکلف اور شاندار دعوتوں کے ہوش ربا اخراجات چھوٹی اور درمیانی درجے کی فلاحی تنظیمیں برداشت نہیں کر سکتیں ،تاوقتیکہ ان کو دستِ غیب حاصل نہ ہو، عام مسلمانوں کا خیال ہے کہ اس منقسم تنظیم کے موجودہ سربراہوں کو عوامی چندے اور عطیات تو برائے نام ہی ملتے ہیں؛ لیکن دستِ غیب ضرور حاصل ہے، جس کی وجہ سے پر تعیش اور آسودہ حال شب و روز گزارنے کے ساتھ عید ملن کے نام پر گزشتہ کئی سالوں سے ان شاندار دعوتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اسی طرح اسراف بے جا کو جنم دینے والے ان لایعنی پروگراموں کا جائز ٹھہراتے ہوئے ملت کی ایک دوسری جماعت کے ایک امیر نے اپنی جماعت کے ایک ایسے ہی عید ملن پروگرام میں فتویٰ صادر کر دیا کہ ’’ ملک کے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے آپسی بھائی چارے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے مشترکہ مل بیٹھ کر اور ایک دوسرے کی بات سننے کی ضرورت ہے، عید ملن افطار پارٹی اور دیگر پروگرام اس کے لیے بہترین مواقع ہیں؛ اس لیے مہینوں جگہ جگہ عید ملن کا پروگرام ہوتے رہنا چاہیے ؛تاکہ ملک کی فضا میں بھائی چارے کے ماحول کو فروغ حاصل ہو۔‘‘
گزشتہ ماہ سے اب تک عید ملن کے نام پر ہونے والی ان شاندار ضیافتوں کی وجہ سے کس حد تک غلط فہمیاں دور ہوئیں اور کتنا بھائی چارہ قائم ہوا، اس پر تو کوئی محقق ہی تحقیق کر کے روشنی ڈال سکتا ہے؛ لیکن سنا ہے کہ ان پر تکلف دعوتوں پر عطیات، چندوں اور دستِ غیب سے حاصل ہونے والا کروڑوں روپیہ بہایا گیا، ممکن ہے اس اندازے میں قدرے مبالغہ آرائی شامل ہو، اس قسم کے لایعنی پروگراموں پر وقتی واہ واہی کے لیے لاکھوں روپے پانی کی طرح بہا دینے کو مسلمانوں کی پستی اور بد حالی کے ساتھ ایک کریہہ اور بھیانک منمانی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔