عملی سیاست میں پرینکاگاندھی کی انٹری اور بی جے پی کی بوکھلاہٹ

عبدالعزیز
پرینکا گاندھی کے عملی سیاست میں قدم رکھنے سے سنگھ پریوار کے خیمے میں کھلبلی یقیناًپیدا ہوگئی ہے۔ جتنے منہ اُتنی باتیں ہورہی ہیں۔ اوپر سے نیچے تک مودی۔ شاہ ٹیم میں پرینکا گاندھی موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ اس سے راہل گاندھی کی ناکامی ثابت ہوتی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ خاندانی وراثت کی توسیع ہے۔ کوئی بتا رہا ہے کہ گاندھی خاندان کا دم گھٹ رہا ہے، جس کی وجہ سے پرینکا گاندھی کو پروموٹ کیا گیا ہے۔ بہر حال جتنے منہ اتنی باتیں ہیں، مگر پتہ یہ چل رہا ہے کہ سنگھ پریوار کے لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ گھبرانے کی وجہ بالکل واضح ہے۔ پرینکا گاندھی کی شکل و صورت، گفتگو، بات چیت، تقریر و بیان، کردار و اطوار کچھ اس طرح کا ہے کہ سنگھ پریوار میں کوئی بھی ان کا مد مقابل نظر نہیں آرہا ہے۔
مودی۔شاہ کی جوڑی مشہور ہوگئی ہے۔ دونوں ملک بھر میں فرقہ پرستی کے شعلے بھڑکا رہے ہیں، عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ملک کے اندر انارکی اور فساد برپا کر رہے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ دونوں دوسروں پر وہ الزامات عائد کر رہے ہیں، جن کے وہ خود دونوں بانی مبانی ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اصلاح حال کر رہے ہیں، ملک میں ڈیولپمنٹ (ترقی و فلاح) لا رہے ہیں۔ بدعنوانی (کرپشن) کو ختم کر رہے ہیں۔ چوروں کو کنارے لگا رہے ہیں؛ لیکن اب یہ نعرہ جب سے زور پکڑا ہے کہ’ ’چوکیدارہی چور ہے‘‘ مودی کا منہ سوکھنے لگا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں۔ امیت شاہ ممتا کے درپے ہیں، مگر مغربی بنگال جیسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول میں ان کی بھی حالت کچھ اس طرح ہے کہ چیخنے چلانے سے زیادہ وہ کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
سارے اخبارات اور میڈیا والے سوائے مودی یا گودی میڈیا کے ، کہہ رہے ہیں کہ پرینکا گاندھی کے سیاست میں عملی قدم رکھنے سے ضرور فرق پڑے گا۔ ایسے وقت میں، جبکہ تین بڑی ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں کامیابی کے بعد کانگریس کے ورکر س، خاص طور سے ان کے قائد راہل گاندھی کے حوصلے بلند ہیں۔ان تین ریاستوں کے بارے میں خود سنگھ پریوار کا دعویٰ تھا کہ یہ سیمی فائنل ہوگا ،جو اس میں جیتے گا ،وہ 2019ء کے فائنل میں بھی جیت سکتا ہے۔ جب کانگریس کی جیت ہوگئی ،تو راجستھان اور مدھیہ پردیش کی ہار کو ہار ماننے سے سنگھ پریوار کے لیڈرز تیار نہیں ہیں۔ کون ان کو بتائے کہ جیت سے دم گھٹتا ہے کہ دم تازہ ہوتا ہے؟ جیت کامیابی ہے کہ ناکامی ہے؟ یہ ایسی بات ہے کہ سنگھ پریوار کے سپن داس گپتا جیسے صحافی نے لکھا ہے کہ: ’’19جنوری کو کلکتہ میں اپوزیشن اتحاد کا مظاہرہ کچھ ایسا ہے کہ بادل گرجا ضرور ،برسا نہیں‘‘ ۔(دی ٹیلیگراف:24جنوری)، حالانکہ اپوزیشن اتحاد اس قدر گرجا اور برسا بھی کہ آج تک سنگھ پریوار خاص طور سے مودی۔شاہ کی جوڑی کے اوسان خطا ہیں، اول فول بکنے لگے ہیں۔ نریندر مودی نے ایک میٹنگ میں کہاکہ: ’’ہمارا ایک ایم ایل اے ہے مغربی بنگال میں، پھر بھی ممتا دیدی کہہ رہی ہیں کہ بچاؤ بچاؤ‘‘۔ مالدہ کے جلسے میں امیت شاہ نے کہاکہ :’’ممتا حکومت کو اکھاڑ پھینکنا ہے،انھوں نے بنگال کو کنگال کر دیا ہے‘‘۔
پرینکا گاندھی کو صدر کانگریس راہل گاندھی نے مشرقی اتر پردیش کا جنرل سکریٹری یا انچارج مقرر کیا ہے اور مغربی یوپی کا انچارج یا جنرل سکریٹری جواں سال اور متحرک (Dynamic) لیڈر جیوتی رادتیہ سندھیا کو مقرر کیا ہے۔ دونوں انتہائی فعال و متحرک اور کانگریس کے جفا کش لیڈر ہیں، سندھیا نے مدھیہ پردیش ،جہاں کانگریس کا چراغ بہت دنوں سے گل تھا، اس میں تیل ڈالا، توانائی پیدا کی اور شیوراج سنگھ چوہان کے چراغ کو گل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اب انھیں مغربی اتر پردیش کانگریس کی قیادت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ امید ہے کہ وہ مغربی یوپی میں کانگریس کو توانائی بخشیں گے اور کانگریسیوں کے دل میں حوصلہ پیدا کریں گے۔ جیوتی رادتیہ سندھیا کا چرچا سنگھ پریوار والے نہیں کر رہے ہیں ؛کیونکہ سنگھ پریوار کو زیادہ خطرہ اور ڈر پرینکا گاندھی سے لگ رہا ہے۔ راہل گاندھی نے دوبئی کی ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ وہ یوپی میں بہت جلد ایسا Surprise دیں گے کہ یوپی کے کانگریسیوں کے دل باغ باغ ہوجائیں گے، واقعی ایسا ہی ہوا۔ کل اعلان ہوا اور پورے اترپردیش میں ایسا لگا، جیسے کانگریسیوں کے اندر جان پیدا ہوگئی ہو، نعرے پر نعرے لگنے لگے’ ’پرینکا گاندھی آئی، آندھی لے کر آئی‘‘،’’پرینکا گاندھی آئی‘‘،’’ درگا آئی‘‘،’’ اندرا گاندھی کی واپسی ہوئی‘‘ وغیرہ جیسے فلک شگاف نعرے بلند ہونے لگے ہیں۔
مشرقی یوپی ،جسے پوروانچل بھی کہا جاتا ہے، بہت اہم علاقہ ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ بنارس کی لوک سبھا سیٹ اور گورکھپور سیٹ اسی علاقے میں ہے،بنارس نریندر مودی کا حلقۂ انتخاب ہے اور آدتیہ ناتھ یوگی لگاتار گورکھپور سے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ حالانکہ ضمنی چناؤ میں ایس پی اور بی ایس پی کے امیدوار نے ان کا قلعہ مسمار کردیاتھا۔ اب پرینکا گاندھی کے آنے سے یوگی، مودی دونوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ پرینکا گاندھی کو نریندر مودی کے مقابلے میں کھڑا کردیاجائے ۔ کانگریسی لیڈران اور کارکنان بہت پہلے سے چاہ رہے تھے کہ انھیں سیاست کے میدان میں لایا جائے، مگر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی پرینکا کو زبردستی سیاست کی گلیاروں میں لانا نہیں چاہتے تھے۔ پرینکا کہا کرتی تھیں کہ ’’سیاست ہی سب کچھ نہیں ہے، اصل میں عوام سب کچھ ہیں، ان کی خدمت میں کر رہی ہوں‘‘ یہ کہہ کر ٹال دیا کرتی تھیں۔
2005ء میں سلمان خورشید اور پرمود تیواری سونیا گاندھی سے ملے تھے اور دونوں لیڈروں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ سونیا جی پرینکا کو انتخابی سیاست میں آنے کیلئے راضی کریں، سونیا گاندھی نے جواب دیا تھا کہ ’’آپ لوگ خود اَپروچ کیجئے،یہ اس کا اپنا فیصلہ ہوگا، میں اس پر کوئی فیصلہ لادنا نہیں چاہتی ہوں‘‘۔ 2004ء سے پرینکا گاندھی رائے بریلی اور امیٹھی میں اپنی ماں اور بھائی کیلئے انتخابی مہم میں شامل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی سرگرمی تھی، جو محدود تھی، انھوں نے از خود اپنے اوپر پابندی عائد کر رکھی تھی، گویا یہ ان کا Self Restraint تھا ،جسے وہ باقی رکھے ہوئے تھیں؛ لیکن ملک اور اتر پردیش کی حالتِ زار دیکھ کر غالباً راہل گاندھی کی کوششوں سے وہ بالآخر راضی ہوگئیں۔ بہت سے لوگ ،جو پرینکا گاندھی سے قریب ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ اب پرینکا کے اندر ذہنی پختگی آچکی ہے، پہلے وہ بہت جلد غصے میں آجاتی تھیں، Short Temper تھیں، دیر سے آئیں، تو اچھا ہوا (دیر آید درست آید) ۔
پرینکا گاندھی کیلئے ایک اورمسئلہ تھاان کا بیٹا ریحان اور بیٹی میریا، دونوں اب بڑے ہوگئے ہیں؛ اس لئے بھی وہ سیاسی سرگرمیوں میں پورا وقت دے سکتی ہیں۔ پہلے ان کی دیکھ بھال کرنا ضروری تھا۔ راہل گاندھی گزشتہ روز (23جنوری) امیٹھی حلقے میں تھے۔ وہاں ان سے اخباری نامہ نگاروں نے بہت سے سوالات ایس پی اور بی ایس پی کے سلسلے میں کئے۔ راہل گاندھی نے بار بار جواب دیا کہ: ’’وہ مایا وتی اور اکھلیش یادو کا دل سے عزت کرتے ہیں، وہ دونوں بی جے پی کے خلاف متحد ہوئے ہیں، بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں، بی جے پی کو ہرانا ہی میرا مقصد ہے، اگر وہ دونوں مجھ سے بات چیت کرنا چاہیں گے ،تو میں ہر طرح سے تیار ہوں‘‘۔ اکھلیش یادو کا انداز اور رویہ کانگریس کیلئے مثبت ہے ،مگر مایاوتی کے رویے کی وجہ سے اکھلیش خاموش رہتے ہیں۔
اب معاملہ یہ ہے کہ ایک دو ہفتے میں یوپی کی سیاست میں گرمی زبردست طریقے سے پیدا ہوجائے گی۔ جیوتی رادتیہ سندھیا نے اپنی ذمہ داری سنبھال لی ہے، وہاں وہ آج سے کام کا آغاز کریں گے، پہلی فروری سے پرینکا گاندھی اپنا کام شروع کریں گی، ان دونوں کے کام سے حالات جوکروٹ لیں گے ،اس سے ایس پی اور بی ایس پی کے لیڈر کچھ سوچنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ اندر کی بات ہے ،کہاں تک صحیح ہے کہا نہیں جاسکتا کہ کانگریس کی قیادت لوک سبھا کیلئے 20سیٹوں کی طلبگار تھی، وہ لوگ آٹھ نو سیٹوں سے زیادہ نہیں دینا چاہتے تھے، اگر یہ بات صحیح ہے، تو معاملہ دیر سویر طے ہوجائے گا۔
میرے خیال سے اکھلیش اور مایا کا اتحاد ادھورا ہے جب تک کانگریس اس میں شامل نہ ہو۔ مشکل یہ ہے کہ مایاوتی کو کون سمجھائے، اکھلیش کی مجبوری ہے کہ وہ مایاوتی کے ساتھ ضمنی چناؤ میں بی جے پی کو بغیر کانگریس کے شکست دے چکے ہیں، یہی وہ بات ہے، جس کی وجہ سے شاید مایا وتی بضد ہیں، امید ہے کہ مایا وتی ہوش کا ناخن جلد لیں گی اور ان کے اندر تبدیلی پیدا ہوگی۔ دلت اور مسلمانوں کے اندر بہت بڑا طبقہ ہے، جو مایا وتی کے مقابلے میں کانگریس پر زیادہ بھروسہ رکھتا ہے؛ کیونکہ مایا وتی دو بار بی جے پی سے اتحاد کرچکی ہیں۔ اگر عوام کی رائے اور خواہش ظاہر ہوگی، تو مایا وتی کو اپنی رائے پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔ مسلمانوں اور دلتوں کے مقامی لیڈروں کو مل کر مایاوتی پر دباؤ ڈالنے کی بھلے طریقے سے کوشش کرنی چاہئے کہ اترپردیش میں اتحاد نہیں ،اتحادِ عظیم (Grand Alliance) کی ضرورت ہے۔ اب پرینکا فیکٹر (Factor) ایسا ہے کہ آسانی سے مایاوتی اور اکھلیش نظر انداز نہیں کرسکتے۔ یوپی کے دو لڑکے؛ بلکہ اب تین لڑکے (سندھیا) اور ایک بہادر لڑکی اوران سب کی بوا مل کر بھاجپا سے ایسا مقابلہ کرسکتی ہیں کہ بھاجپا کو یوپی میں دو چار سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔ جے ڈی (یو ) کے نائب صدر اور ماہر انتخابات مسٹر پرشانت کشور تک نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ پرینکا گاندھی میں بلا کی صلاحیت ہے، ان کی سیاست میں آمد سے اتر پردیش میں بہت بڑی تبدیلی واقع ہوگی۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068