علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھگوااورملّی سیاست کے شکنجے میں


تنویرعالم
(صدراے ایم یوالومنائی ایسوسی ایشن مہاراشٹر)
رابطہ: 9004955775
بات شروع ہوتی ہے علی گڑھ میں ملک بھر کی مسلم سیاسی جماعتوں کے قومی اجتماع سے، جس میں کل ہندمجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی کومسلم فرنٹ کی قیادت کے لیے بلایاجاتاہے اوراس کی مخالفت میں اترتی ہیں علی گڑھ کی ہندوتووادی تنظیمیں، مسلم فرنٹ کی نمایندگی کی ذمے داری لیتے ہیں راشٹریہ علماکونسل کے صدر مولاناعامررشادی کے بیٹے اوراے ایم یوطلبایونین کے سکریٹری حذیفہ عامررشادی اورہندوتووادی تنظیموں کے سردارہیں بھاجپاایم ایل اے دلبیرسنگھ کے پوتے ٹھاکراجے انگھ، اجے سنگھ کے لیے اے ایم یوہی سیاست کالانچنگ پیڈہےـ
یہاں سمجھنے کی ضرورت یہ ہے کہ مسلم فرنٹ کی سیاست کو ہندوستانی مسلمانوں نے ایک بارنہیں، باربارمستردکیاہے، خودپچھلے اسمبلی انتخابات سے قبل عامررشادی صاحب اور دوسرے ملی سیاست دانوں نے مسلم فرنٹ بنانے کی کوشش کی تھی، باربارکوشش کے باوجوداس پراویسی نے کوئی توجہ نہیں دی اورذاتی مفادات واغراض کے ٹکراؤکی وجہ سے دوسری مسلم پارٹیوں میں بھی کوئی اتحادنہیں بن پایاتھاـ
یہ سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی فرنٹ کی میٹنگ اے ایم یومیں رکھی گئی، وجہ صاف تھی، یعنی کسی طرح گٹھ بندھن قائم کرنا، اویسی کانام استعمال کرکے ملی قیادت کے لیے ماحول پیداکرنا اورپھرلوک سبھاکاٹکٹ حاصل کرنا،ساتھ ہی اس کی آڑمیں ٹھاکراجے سنگھ کوبھی موقع دینا، یہ ایک آپسی گٹھ جوڑ ہے، جس کی ایک طرف ملی قیادت ہے، تودوسری طرف بھگواسیاست اوراس سب کے بیچ پِس رہی ہے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، اس کے معصوم طلبہ اور ہم جیسے باہربیٹھے لوگ، جواس درس گاہ سے، وہاں کے طلبہ سے ہم دردی رکھتے ہیں ـ اس پورے معاملے کوسمجھنے کے لیے ان چندنکات وسوالات پرغورکرناضروری ہے:
۱-مذہب پرمبنی سیاست کے علمبردارٹھاکراجے سنگھ، جو بھاجپا ایم ایل اے دلبیرسنگھ کے پوتے ہیں اور رشادی خاندان کے گٹھ جوڑ کواے ایم یوکے عام اساتذہ، طلبہ وعوام سمجھ کیوں نہیں پارہے ہیں؟
۲-یونیورسٹی انتظامیہ اس پورے سانحے پرنرم رویہ کیوں برت رہی ہے؟
۳-اے ایم یوٹیچرس ایسوسی ایشن نے اس پورے سانحے پراب تک جنرل باڈی کی میٹنگ کیوں نہیں بلائی؟
۴-اے ایم یوسٹوڈینٹس یونین جس دن میٹنگ بلاتی ہے، اسی دن دہلی میں پریس کانفرنس کیوں کرتی ہے؟ وہ بھی صرف ایس آئی اوکے ساتھ! مطلب اے ایم یوطلبہ یونین خوداس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے ـ
۵-خواتین کی خودمختاری کے اس دورمیں گرلزکالج کی طالبات حذیفہ عامررشادی کی سیاست کامہرہ کیوں بن رہی ہیں؟
۶-کوئی ایک طالب علم، جولیفٹسٹ سے رائٹسٹ بن جاتاہے، اس کی ایک افواہ والی سوشل میڈیا پوسٹ سے یونیورسٹی کے طلبہ صحیح اورغلط کافیصلہ کرکے ہنگامہ آرائی پرکیوں اترآتے ہیں؟
۷-اگرعلی گڑھ پولیس یونیورسٹی انتظامیہ کی شکایت پرایف آئی آردرج نہیں کرتی، تواے ایم یوکورٹ کیوں نہیں جاتا؟
۸-اوراگریونیورسٹی انتظامیہ ٹھاکراجے سنگھ کے تئیں نرم ہے،تو ٹیچرایسوسی ایشن اورطلبہ یونین انتظامیہ پرکورٹ کے ذریعے پولیس تک جانے کادباؤکیوں نہیں بناتی؟
یہ کچھ ایسے سوالات ہیں، جن کویکے بعددیگرے سمجھنے کے بعدبات بالکل صاف ہوجاتی ہے اوراگرصاف نہیں ہوتی، تو مسلم سماج، علیگ برادری اتنی نادان کیوں ہے کہ کوئی بھی "نوٹا "جتناووٹ پانے والی پارٹی اوراس کے نیتا /خاندان بے وقوف بناکرچلاجاتاہے؟
لیکن ان لوگوں کو یہ بھی جان اورسمجھ لیناچاہیے کہ کچھ لوگ ہی سہی، آپ کی سیاست کوسمجھ رہے ہیں اورمحدوددائرے میں سہی، اپنی آوازبھی بلندکررہے ہیں، اے ایم یوکسی کے باپ کی جاگیرنہیں، جس سے ہم ہرکسی ایرے غیرے کوکھیلنے دیں گےـ
آخرمیں یونیورسٹی کے میرے چھوٹے بھائی اوربہنوں سے بہت پیارکے ساتھ گزارش ہے کہ آپ اپنی کلاسوں کولوٹ جائیے، اپنی تعلیم کانقصان مت کیجیے، آپ یادکیجیے کہ پچھلی باربھی ہم نے کہاتھا کہ آپ کا استعمال ہورہاہے اوربعدمیں سچائی آپ سب کے سامنے صاف ہوکرآگئی تھی، باربردھوکہ مت کھائیں!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*