علی اکبرناطق کی "سبز بستیوں کے غزال"


احمدفرہاد
قبولِ عام وہ آسمان ہے، جہاں نقد و نظر کے پر جلتے ہیں، تخلیق کار ایک بار لیلاے شہرت کے محمل تک جا پہنچے، تو استنادِ عامہ کا تاج اس کے پاؤں میں جا پڑتا ہے، چاہے معیار و کسوٹی کا ساز کوئی بھی دھن بجاتا رہے ۔ میں نے علی اکبر ناطق کا وہ وقت بھی دیکھا ہے، جب مشاعروں میں بیٹھے ہونے کے باوجود کوئی اسے جھوٹے منہ شعر سنانے کا نہ کہتااور پھر وہ وقت بھی دیکھا، جب اس کے دشمن اور ناقد بھی اس کی شان میں آسمان زمین کے قلابے ملانے کو مجبور تھے ۔بھلا پانی کا رستہ کون روک سکا ہے ؟علی اکبر ناطق پہلے خود اپنے آپ پر ایمان لایا اور پھر دوسروں کو دعوت دی۔جو بلا چون و چرا مان گیا، اسے سینے سے لگایااور جس نے زرا اڑی لگائی،اس کے لیے وہ تیغِ فاروقی ثابت ہوا ۔
میں نے اپنی ساری زندگی میں علی اکبر ناطق سے زیادہ خود اعتمادی کسی شخص میں نہیں دیکھی ۔ جو کہا،جیسے کہا،ڈنکے کی چوٹ پر کہا اور پھر اسےثابت کر دیا ۔ ورنہ ہم جیسے بزعم خود سیانے تو اس خوف میں جانے کیا کچھ لکھ کر ضائع کر بیٹھے کہ لوگ کیا کہیں گے ۔ علی اکبر ناطق نے نظمیں کہیں ،افسانے اور ناول لکھے ،تنقید کے بحرِمردار میں غواصی کی اور اب سبز بستیوں کے غزالوں کا پیچھا کرتےاسپِ غزل کی باگ پر ہاتھ ڈال دیاہے ۔ شاید میں نے علی اکبر ناطق کے لیے ہی کہا تھا:
میں اپنی دھن میں چلتا جا رہا تھا اور وحشت
زمیں میرے لیے ہموار کرتی جا رہی تھی
سبز بستیوں کے غزال علی اکبر ناطق کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے ۔ یہ غزلیں ،ان کی فضا ، ان کا ڈکشن ،ان کا کرافٹ ، ان کا لہجہ ، ان کا تاروپود اور ان کا نظامِ فکرچیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ان کے پیچھے علی اکبر ناطق کھڑا ہے ۔ بھلا نئی غزل کی ہا ہا کار میں روایت کی بانسری بجانے اور متروکات کو ری وائیو،ری فریز اور ری شیپ کرنے کا حوصلہ علی اکبر ناطق جیسے سر پھرے کے علاوہ اور کس میں ہو سکتا ہے؟یہ غزلیں اسی وسیب میں سانس لیتی ہیں جو ناطق کے فکشن اور نظموں میں جا بجا دکھائی پڑتا ہےـ غزل کے سنجیدہ قارئین کو سبز بستیوں کے غزال ضرور پڑھنی چاہیے ۔تبرک کے طور پر کتاب سے آپ کے لیے چند اشعار:
شبوں کے کہنہ لطف نے مرے ظروف بھر دیے
بلا سے اب خدا کی چشم دن بحالتی رہے
۔۔۔۔
نول ہیں آب میں خوش، گُل صبا میں شاد رہے
ترے حزیں، تری آب و ہوا میں شاد رہے
۔۔۔
گھنٹیاں یار کے دروازے پہ باندھ آیا ہوں
ایک زنجیرِہوس دل میں سدا ہلتی رہی
۔۔۔۔
میں قتل ہو گیا اگر گلاب بیچتے ہوئے
صبا کو میرا حُکم ہے، گُلوں کو پالتی رہے
۔۔
کوئی نہ رستہ ناپ سکا ہے ریت پہ چلنے والوں کا
اگلے قدم پر مٹ جائے گا پہلا نقش ہمارا بھی
۔۔۔
غنچہ غنچہ ہنس رہا تھا پتی پتی رہ گیا
پھول والوں کی گلی میں گل تماشا ہو گیا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*