Home ستاروں کےدرمیاں علّامہ شوق نیموی: انیسویں صدی کے جلیل القدرشاعرومحدث

علّامہ شوق نیموی: انیسویں صدی کے جلیل القدرشاعرومحدث

by قندیل


حذیفہ شکیل
شعبۂ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ
علامہ شوق نیموی ایک عبقری شخصیت ، مستند شاعر ، با کمال محقق ، بے مثال فقیہ اور پایے کے محدث کا نام ہے، ایک ایسی شخصیت ،جس نے صرف علاقائی، صوبائی یا ملکی سطح پر نہیں؛ بلکہ عالمی سطح پر علمی شخصیتوں کو اپنے علمی و ادبی کارناموں سے متاثراور معاصرین و اکابرین کو اپنے تبحرِ علمی کا معترف کیا، وہ کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے۔
علامہ شوق نیموی کی پیدائش زر خیز اور مردم خیزخطہ بہار کے ایک گاؤں نیمی ضلع پٹنہ میں 1860ء میں ہوئی، جو ادبی حلقوں میں آج بھی عظیم آباد کے نام سے مشہور و معروف ہے۔میری نظر میں علامہ نیموی کی شخصیت کے دو نمایاں اور روشن پہلو ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ شعر و سخن کا عمدہ ذوق رکھتے تھے ، مستند شاعر تھے اورچوں کہ شوق نیموی کی پیدائش اور پرورش و پرداخت ایک مہذب اور علمی گھرانے میں ہوئی تھی ، ان کے والد شیخ سبحان علی خود ایک ذی علم انسان تھے؛ چناں چہ بچپن ہی سے ان کی ذات پر ان چیزوں کے اثرات نمایاں تھے، وہ حصول علم کی طرف آغاز عمر میں ہی متوجہ ہو گئے ،وہ فطرتاً شاعر تھے اور کم عمری میں ہی اشعار موزوں کر لیا کرتے تھے، اپنی شعر گوئی کے حوالے سے خود نوشت’’یادگارِ وطن‘‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں :’’لڑکپن میں خدا نے طبیعت ایسی موزں بنائی تھی کہ جب میں گلستاں ہی پڑھتا تھا، تو فی البدیہہ شعر موزں کر لیتا تھا،مجھے خوب یاد ہے کہ بیت بازی کے مقابلے میں حریف سے کبھی شکست نہیں ہوئی،بارہا ایسا ہوا کہ حریف کو بھی کسی خاص حرف کے اشعار بہت یاد تھے، جن کی وجہ سے مجھ کو دقت پڑتی، مگر جب استادکا کوئی شعریاد نہیں آتا ،تو نظم کرکے جواب دے دیتااور ان بے چاروں کو یہ وہم تک نہ ہوتاکہ یہ شعر اس کا طبع زاد ہے۔‘‘ یہ سب صلاحیتیں شوق نیموی میں اللہ نے ودیعت تو رکھی ہی تھیں؛ لیکن جب حصولِ علم کی غرض سے اس وقت کے علمی و ادبی مرکز لکھنؤ کا سفر کیا اور وہاں شمشاد لکھنوی اور تسلیم لکھنوی جیسے بڑے شعرا کی شاگردی اختیار کی، تو ان کی اصلاح وتربیت نے شوق نیموی کے فن کو پختگی اور ادبی وشعری صلاحیت کو عروج و سر بلندی بخشی اور لکھنؤ قیام کے دوران ہی انھیں ایک قادر الکلام اور باکمال شاعروں کی صف میں شمارکیا جانے لگا ،شوق نیموی کی شعری عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ہم عصر اور نامور شعرا میں سے داغ دہلوی، تسلیم لکھنوی ، احسن مارہروی اور حسرت عظیم آبادی جیسے بڑے شاعروں نے بھی ان کی شعری خوبیوں کو سراہا اور آزاد ہند کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد جیسی نابغہ روزگار شخصیت، جن کی فکری بلندی اور بالیدہ ذوق کاہر شخص معترف ہے ، وہ بھی با ضابطہ طور پران سے شعر وسخن کی اصلاح لینے لگے اور نہ صرف شوق کی شاگردی اختیار کی؛ بلکہ ان کی شاگردی پر فخر بھی کیا،جس کا تذکرہ ’’ آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی ‘‘میں’’ شاعری میں شاگردی ‘‘کے عنوان کے تحت درج ہے:
’’ اس زمانے میں ایسا ہوا کہ شاعری کے متعلق کتابوں کی جستجو میں رسالہ ’’اصلاح‘‘ اور ازاحۃ الاغلاط‘‘ لکھنؤ سے منگوایا، یہ دونوں رسالے مولوی ظہیر احسن شوق نیموی کے تھے اور فوائدِ متعلقہ ، شعر گوئی اور مبحث متروکات و تصحیح الفاظ میں بہت مفید ہیں،ان رسالوں سے ان کی دیگر تصانیف کا حال معلوم ہوا اور پھر پٹنہ سے براہ راست انھیں لکھ کر تمام کتابیں منگوائیں،ان میں’’ سرمۂ تحقیق ‘‘اور ’’یادگارِ وطن‘‘ بھی تھی، اس وقت جیسی طبیعت اور معاملات تھے ،اس کے لحاظ سے ان حالات کا بہت زیادہ اثر پڑا اور ان کی شاعرانہ واقفیت دل پر نقش ہو گئی،نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے ان سے خط و کتابت کی اور اصلاح لینا شروع کر دیا، اس میں شک نہیں کہ وہ بہت جی لگاکر اصلاح دیتے تھے اور بعض اوقات غزل کے ساتھ ایک ایک صفحے کے فوائد بھی، جن کا کچھ تعلق اشعارِ زیرِ اصلاح سے ہوتا تھا، لکھتے تھے۔‘‘ ( آزاد کی کہانی خود ان کی زبانی ، ص 149,148)
شوق نیموی کے بیٹے مولانا عبد الرشید فوقانی کی ملاقات جب کلکتہ میں مولانا آزاد سے ہوئی ،تو انھوں نے اس کا تذکرہ ان کے سامنے بھی کیا ، یہ واقعہ بالتفصیل عبد الرشید فوقانی کی کتاب ’’القول الحسن ‘‘ کے صفحہ170 پر درج ہے، شاعری میں مولانا آزاد کی شاگردی کے سلسلے میں مشہور اہلِ علم جناب مالک رام اپنے علمی مجلہ ’’تحریر‘‘ میں لکھتے ہیں :
’’مولانا آزاد نے امیر مینائی مرحوم اور داغ مرحوم سے ابتدا میں اصلاح لی، مگر اصلاح پسند نہ آئی تو ظہور میرٹھی سے ،جو نسبتاً کم معروف تھے ،اپنے کلام پر اصلاح لینے لگے، اس کے بعد تا آخر مشقِ سخن مولانا ظہیر احسن شوق نیموی کے حلقۂ تلمذ میں داخل رہے۔‘‘(مجلہ تحریر ، 1968 )
یہ وہی مولانا آزاد ہیں، جنہوں نے غبار خاطر میں ایک جگہ ذوق کے اشعار کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار اس طور پر کیا کہ ذوق کے اشعار میں ہم اپنا ذوق نہیں پاتے،گویا ذوق کو خاطر میں نہ لانے والا شخص شوق کی شاگردی پر فخر کر رہا ہے۔ شوق نیموی کے شاگردوں کی ایک لمبی فہرست ہے ،اپنی خود نوشت ’’یادگارِوطن‘‘ میں انھوں اپنے باضابطہ اور صاحبِ دیوان شاعر شاگردوں کی تعداد 17 شمار کی ہے ، آزاد کے علاوہ شوق کے شاگردوں میں ضیا عظیم آبادی اور زبیر دہلوی جیسے بڑے شاعروں کا بھی نام آتا ہے، علامہ کاخود اپنے اشعارکے بارے میں واضح نقطۂ نظر یہ تھاکہ:
وہی اشعار جن میں لطف کچھ رہتا ہے رکھتے ہیں
غزل میں شوق ہم بھرتے نہیں ہر رطب و یابس کو
یہ تو شوق نیموی کی شخصیت کی ایک جہت تھی، جس سے کسی نہ کسی حدتک لوگ واقف ہیں ؛لیکن میں آپ کی توجہ ان کی شخصیت کے ایک اور نمایاں اور روشن باب کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں، جس سے عموماً لوگوں کی واقفیت کم ہے، جب کہ وہ ایک ایسا درخشاں پہلو ہے کہ جس نے انھیں شوق نیموی سے علامہ شوق نیموی بنا دیااور وہ یہ ہے کہ انھوں نے علمِ حدیث کے میدان میں ایک بڑے حلقے کو متاثرکیا ہے اور فنِ حدیث میں’’ آثار السنن ‘‘ جیسی لازوال اور بے مثال تصنیف چھوڑی ،جس نے اس وقت کے اکابر اورمشائخ علماکو اپنا گرویدہ بنا لیا؛ چناں چہ مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ ،جن کا شمار ہندوستان کے مشہور عالموں میں ہوتا ہے اور خاص طور پر فن حدیث میں انھیں بڑا مقام حاصل ہے ، انھوں نے اپنی تصنیفات میں کثرت کے ساتھ علامہ نیموی کی تحقیقات سے استفادہ کیاہے اور بذل المجہود کی مستفاد کتابوں کی فہرست میں آثار السنن اور اس کی تعلیق کو بھی شمار کیا ہے ، مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی کتاب اعلاء السنن میں جا بجا علامہ نیموی کی تحقیقات سے استفادہ کیا ہے اور بطور سند انھیں پیش کیا ہے، شیخ الحدیث مولانا زکریا سہارنپوریؒ نے جب موطا امام مالک کی شرح اوجزالمسالک لکھی ،تو علامہ نیمویؒ کی تحریروں کو حوالے کے طور پر پیش کیا ،اسی طرح مولانا حکیم عبد الحی لکھنویؒ ،مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اورشیخ عبد الحق مہاجر مکی ؒ جیسے ماہرینِ علم حدیث کو انھوں نے اپنے تبحر علمی کا معترف کیا ؛ لیکن ان اکابر کے علاوہ بھی ایک اور شخصیت، جو علامہ شوق نیموی ؒ کی علمی صلاحیت سے سب سے زیادہ متا ثر ہوئی اور اس گوہرِ نایاب کی قدر و قیمت کا کھل کر اعتراف کیا، وہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی ہے،آخر جن کے نام میں شاہ لگا ہوا ہو اور فن حدیث میں جن کی حیثیت جوہری کی ہو، وہ اس گوہرِ نایاب کی قدر وقیمت کو نہ پہچانتے تو اور کون پہچانتا؟ جب کہ ہم اور آپ جانتے ہیں کہ ’’ قدرے گوہر شاہ داند یا بداند جوہری‘‘ چنانچہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے یہ اعتراف کیا کہ ’’ تین سو برس سے ہندوستان میں اس پایے کا محدث پیدا نہیں ہوا ۔‘‘(ہندوستانی مسلمان،ص :۵۰) واضح ہو کہ علامہ کا یہ اعتراف آج سے 114 سال قبل کا ہے ، گویا آج کے تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پچھلی چار صدیوں میں اس پایے کا محدث ہندوستان میں پیدا نہیں ہوا ، اس مفہوم کی ادائیگی کے لیے مجھے مشہور عربی شاعر ابو الطیب المتنبی کے شعر سے زیادہ بلیغ کوئی شعر نظر نہیں آتا :
مضت الدھور وما أتین بمثلہ
ولقد أتی فعجزن عن نظراۂ
یہی نہیں ؛بلکہ علامہ انور شاہ کشمیری جب طلبہ کو درسِ حدیث دینے جاتے تھے، تو بطور حوالہ علامہ شوق نیمویؒ کی آثار السنن کو ساتھ میں رکھتے تھے،انھوں نے شوق نیموی کی شان میں عربی زبان میں دو طویل قصیدے بھی لکھے ہیں ،جو آثار السنن کے اخیر میں مذکوربھی ہیں، ان کی دلی خواہش تھی کہ وہ عظیم آباد آکر علامہ شوق نیمویؒ سے ملاقات کرتے ؛لیکن قبل اس کے کہ وہ آتے ،پیامِ اجل آپہنچا اور ان کی آرزو، آرزو ہی رہ گئی ۔
ہم ان کی شخصیت کی مذکورہ دونوں جہتوں کو سامنے رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی شخصیت اس شعر کی حق دار تھی:
برکفے جامِ شریعت ،برکفے سندانِ عشق
ہر ہوسناکے نداند ، جام و سنداں باختن
علامہ شوق نیموی نے اپنے44 سالہ مختصر عرصۂ حیات میں بہت سی کار آمد ،مفید ،معلوماتی اور عمدہ تصانیف چھوڑی ہیں :
ازاحۃ الاغلاط :یہ فارسی زبان کا ایک مفید رسالہ ہے ،1893ء میں قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوا ۔
اصلاح:یہ اصلاحِ زبان کے حوالے سے لکھا گیا انتہائی مفید اور اہم رسالہ ہے اور اردو زبان وبیان کی درستگی کے لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے ، 1893ء میں قومی پریس لکھنؤ سے شائع ہوا ۔
سرمۂ تحقیق: یہ رسالہ جلال لکھنوی کے اعتراضات کے رد میں لکھا گیا ہے ، 56صفحات پر مشتمل ہے۔
ان کا شعری مجموعہ ’’ دیوانِ شوق‘‘ کے نام سے نور الہدی نیموی نے مرتب کیا ،جو ان کے انتقال کے بعد 1326 ھ میں مطبع سیدی پٹنہ سے شائع ہوا۔
نغمۂ راز:یہ اردو زبان میں لکھی گئی ایک پردرد مثنوی ہے ، جس پر قطعۂ تاریخ ہندوستان کے مشہور شاعر امیرمینائی کا درج ہے ، یہ کتاب 38صفحات پر مشتمل ہے اور 1303ھ میں قومی پریس لکھنؤ سے چھپی۔
سوزو گداز:یہ شوق نیموی کی معرکۃ الآرا مثنوی ہے، جس پر قطعۂ تاریخ مشہور شاعر داغ دہلوی نے لکھا ہے ، نظامی پریس پٹنہ سے 1312ھ میں چھپی ، 46صفحات پر مشتمل ہے ۔
یادگارِ وطن: یہ شوق نیمی کی خود نوشت سوانح ہے ۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سی تصانیف ہیں ،جن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے اور لوگوں نے ان تمام کتابوں کو پڑھ کر ان کی عظمت کا اقرار بھی کیا ہے؛ لیکن فنِ حدیث میں لکھی گئی ان کی تصنیف آثار السنن کو شاہکار کی حیثیت حاصل ہے ، اس کتاب کے ما بہ الامتیازپر اگر ہم غور کریں، تو اس کا سب سے بڑا امتیاز یہ نظر آتا ہے کہ علامہ شوق نیموی کا تحقیقی رنگ اس میں نمایاں ہے اور اسے پڑھ کر ان کی گراں قدر تحقیقات ؛بلکہ ان کے صاحبِ رائے ہونے کا اندازہ ہوتا ہے ، متن کتاب میں 47 اور تعلیقات کی شمولیت کے ساتھ150مقامات پر علامہ شوق نیموی نے مضبوط دلائل کی روشنی میں ’قال النیموی‘ کے ذریعے اپنی رائے کا برملا اظہار کیا ہے اور ایسی نادر تحقیقات پیش کی ہیں، جن پر متقدمین و متاخرین علما کی زبانیں خاموش نظر آتی ہیں ، گویا اس زاویے سے یہ کہنا چاہیے کہ بعض تحقیقات میں انھیں سبقت حاصل ہے، یقینایہ ان کی علمی صلاحیت کی واضح دلیل ہے اور اس کتاب کی عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ علامہ شوق نیموی کی آثار السنن آج بھی مختلف مدارس اور دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ ازہر مصر میں داخل نصاب ہے ، ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ ،ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند کے نصاب کابھی حصہ ہے ۔

You may also like

Leave a Comment