علمی سرقے پر ابن الکتب جلال الدین سیوطی کا ایک دلچسپ رسالہ

(تیسری وآخری قسط)
نایاب حسن
پھر وہ اپنے اصل موضوع پر آتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ سرقہ کرنے والے نے صرف مذکورہ بالا دونوں کتابوں سے ہی سرقہ نہیں کیاہے؛بلکہ اس نے میری ایک تیسری کتاب’’طي اللسان عن ذم الطیلسان‘‘سے بھی سرقہ کیاہے اوراسے بھی اس طرح پیش کیاہے،گویاوہ اس کی اپنی تحقیق اور مطالعوں کا نتیجہ ہو،اس کے بعد انھوں نے اس سارق کے حق میں دعاکی ہے کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچاہے،تواللہ اس کی کوششوں کو قبول فرمائے اور اگر وہ اپنے دعووں میں جھوٹاہے اور اس نے میری کتابوں پرڈاکہ ڈالاہے،چوری کی ہے،تواللہ تعالیٰ اس کی کتاب کو ہر قسم کی نافعیت سے محروم کردے ،خود اسے بھی گمنام کردے اور اسے لوگوں میں ذلیل و رسوا کردے۔ سیوطی کا الزام آگے یہ ہے کہ اس شخص نے انہی تین کتابوں پر بس نہیں کیا؛بلکہ ان کی ایک چوتھی کتاب’’مسالک الحنفافي والدي المصطفی‘‘سے بھی سرقہ کیاہے،البتہ اس مؤخرالذکر کتاب سے پہلی تینوں کتابوں کے بالمقابل کم چوری کی ہے۔پھراس نے صرف میری کتابوں کے سرقہ پر ہی انحصار نہیں کیا؛بلکہ قاضی قطب الدین خضیری اور شمس الدین سخاوی کی کتابوں سے بھی سرقے کیے ہیں۔
اس کے بعد لکھتے ہیں کہ جب اس بندے کو لکھنے کی صلاحیت نہیں تھی،توکیا ضرورت تھی کہ تصنیف و تالیف کا مشغلہ اختیار کرتا،میری اور دیگر مصنفین کی کتابوں سے سرقہ کرکے اس نے یہ سوچاکہ فائدے میں رہے گا،مگر حقیقت میں وہ خسارے میں رہے گا،اس نے سوچاہوگاکہ اس طرح وہ علمی و تصنیفی دنیامیں بڑا نام کمائے گا،مگر یہ توسراسربدنامی کاسوداہے۔اس کے بعد انھوں نے اس شخص کے بارے میں بتایاہے کہ میں اسے نہیں جانتا،البتہ کسی نے مجھے بتایاہے کہ وہ ماوراء النہرکے خطے سے تعلق رکھتاہے اور اس نے میری ’’الخصائص‘‘اور ’’المعجزات‘‘کی کئی کاپیاں میرے شاگرد عبدالجبارسے حاصل کیں،بہت دن تک انھیں اپنے پاس رکھے رہااوران میں سے چوریاں کرتا رہااور عبدالجبار کواس کے بارے میں کچھ پتانہیں لگ سکا،پھر مصر واپسی کے بعد اس نے میرے اس شاگرد سے ان کتابوں کی بقیہ کاپیاں بھی مانگیں،جن کو دینے سے اس نے انکارکیا،پھرجب اس نے بار بار اصرارکیااور کئی بڑے لوگوں سے سفارشیں کروائیں،تب اس نے باقی کاپیاں بھی اسے دے دیں اور اس نے میری پوری کتاب سے سرقہ کرلیا۔دوسری دوکتابیں’’أنموذج الحبیب‘‘(پورانام أنموذج اللبیب في خصائص الحبیب ہے ،یہ الخصائص الکبریٰ کی تلخیص ہے)اور ’’طي اللسان عن ذم الطیلسان‘‘اس نے ان کے دوسرے شاگردنورالدین الحسنی نے لی اور ان کتابوں سے بھی سرقہ کیا۔
اس کے بعد انھوں نے لکھاہے کہ جب ادب و شعر کے باب میں ،جوفضیلت و مرتبے کے اعتبار سے سیرت جیسے موضوع سے یقیناً کم تر ہے،اس میں سرقہ نویسی کو برداشت نہیں کیاجاتا اوراگر کوئی شاعر یا ادیب کہیں سے سرقہ کرتاہے،تواس کی سرزنش کی جاتی ہے،اس کی ملامت کی جاتی اور اسے عار دلایا جاتا ہے،توسیرت جیسے متبرک علمی موضوع پر سرقہ نویسی کو کیسے برداشت کیا جاسکتاہے۔اس سلسلے میں انھوں نے شمس الدین محمد بن حسن نواجی (788-859ھ) کی کتاب’’الحجۃ في سرقات ابن حجۃ‘‘کا حوالہ دیاہے،یہ کتاب انھوں نے اپنے دور کے معروف ادیب؛بلکہ امام الادباابوبکر بن علی تقی الدین الحموی(767-837ھ)کے خلاف لکھی تھی اور ان پر ادبی سرقوں کا الزام لگایاتھا،حالاں کہ کہتے ہیں کہ بعد میں جب انھیں مزید تحقیق ہوئی،تواپنے الزامات سے رجوع کرلیاتھا،اس کتاب کی ضخامت تین سو صفحات سے زائد ہے اوریہ مخطوطہ کی شکل میں جامع ازہر کی لائبریری میں موجودہے،اس کا پی ڈی ایف ورژن www.alukah.netپربھی ڈال دیاگیاہے،دوسرے نمبر پر علامہ سیوطی نے قاسم بن محمد البصری حریری (446-516ھ) کی مشہور زمانہ ’’مقاماتِ حریری‘‘کے تئیسویں مقامہ’’الشعریۃ‘‘کی ایک فصل نقل کی ہے،جس میں ایک استاذاپنے طالب علم کا قضیہ لے کر والیِ حکومت کے پاس پہنچتا ہے اور اپنے شاگرد پر الزام لگاتاہے کہ میں نے اس کی تعلیم و تربیت کی اور اسے بچپن سے پرورش کرکے جوان کیا،پھر جب یہ بڑا ہوگیا ،تومجھ پر ہی ظلم وزیادتی کرنے لگا،اس کے شاگرد کو یہ سن کر حیرت ہوئی اوراس نے اپنے استاذ سے کہا:حضور!میں تو آپ کا فرماں بردار شاگرد ہوں اور کبھی میں نے آپ کے ادب و احترام میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے،تواستاذنے کہا :اس سے بڑی نافرمانی،عیب اور برائی کیاہوسکتی ہے کہ تم نے میری تصنیف کو غصب کرلیا، میرے اشعار چوری کرکے اپنے نام سے نشر کردیے،تمھیں معلوم نہیں کہ شعراکے لیے ان کے اشعار کی چوری سونے چاندی کی چوری سے بھی زیادہ خطرناک ہے،وہ اپنے افکار و خیالات کی بے حرمتی کے تئیں ایسے ہی باغیرت ہوتے ہیں،جیسے اپنی کنواری بیٹیوں کی بے حرمتی کے تئیں۔یہ سن کر شاہِ وقت اس نوجوان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:ہلاکت ہوتمھارے لیے،تم تو ایک بداطوار فاضل اورایک چورشاگردہو!
سیوطی نے ناصرالدین حسن بن شاورکنانی (608-687ھ)کاایک قطعہ بھی نقل کیاہے:
سارق الشعر علی الأبیات عاد أي عاد
وہولص آمن من قطع کف في فساد
إنماقطع یدیہ قطعکم عن الأیادي
(اشعار چوری کرنے والا شخص پرلے درجے کا ظالم ہے،یہ ایسا چورہے،جس کا چوری کرکے فسادپھیلانے کی وجہ سے ہاتھ بھی نہیں کاٹاجاسکتا،پس اس کاہاتھ کاٹنے کی شکل یہی ہے تم اسے انعامات و اکرا مات سے محروم رکھو)
ایک واقعہ شہاب الدین ابن الخیمی انصاری یمنی(603-685ھ)کانقل کیاہے،جواپنے زمانے کے مشہور صوفی شاعر تھے،انھوں نے ایک خانقاہ میں قیام کیااور وہاں بیٹھے بیٹھے ایک نظم لکھی،جب وہاں سے نکلے،تواپنی نظم وہیں بھول گئے،اتفاق سے ان کے بعد وہاں ایک دوسرے صاحب نجم الدین بن اسرائیل ابوالمعالی شیبانی(603-677ھ)نے قیام کیا،انھیں وہ نظم مل گئی؛چنانچہ انھوں نے اسے اپنے نام سے پھیلادیا، جب شہاب الدین یمنی کو معلوم ہوا،تووہ طیش میں آگئے،دوسرے ادیبوں ،شاعروں سے اس کا ذکر کیا اور معاملہ عمربن فارض(576-632ھ)تک پہنچا،جواس وقت استادشعرامیں شمار ہوتے تھے اور صوفیانہ شاعری میں امامت کے درجے پر فائز تھے،سلطان العاشقین کے لقب سے جانے جاتے تھے ،انھوں نے دونوں سے کہاکہ اپنی اپنی نظم سنائیں،دونوں نے سنائی،توانھیں اندازہ ہوگیا کہ نظم اصل میں ابن الخیمی کی ہے اور نجم الدین بن اسرائیل نے چوری کی ہے؛چنانچہ انھوں نے ابن الخیمی کے حق میں فیصلہ سنادیا،یہ سن کر نجم الدین نے کہا:یہ توتواردہے،توانھوں نے کہاکہ: شروع سے آخرتک توارد تونہیں ہوتا،یہ چوری ہے!(ص:47-50)
اس کے بعد پھر علامہ سیوطی نے اپنی کتاب سے سرقہ کرنے والے کو کھری کھوٹی سنائی ہے اور اصحابِ تصنیف و تالیف کونصیحت کی ہے کہ ایسے لوگوں سے اپنی کتابوں کو چھپاکر رکھیں،ان کے ہاتھ نہ لگنے دیں اور ساتھ ہی جو شخص بھی ایسی علمی چوری میں پکڑاجائے،توبے تحاشااس کا پردہ فاش کریں؛تاکہ کوئی دوسرا آیندہ ایسی بددیانتی کی جرأت نہ کرسکے اور اگر کوئی ایسے شخص کی حمایت میں کھڑا ہو،تواس کی بھی چتھاڑکریں؛تاکہ کوئی شخص کسی غلط کام کرنے والے کی حمایت میں کھڑاہونے کی جرأت نہ کرے۔ایک بات اور لکھتے ہیں کہ جب اسے ایک شخص نے اس چوری کی طرف متنبہ کیا،تواس نے ایک دومقام پر ’’الطیلسان‘‘اور’’المسالک‘‘کے حوالے دیے،مگر’’ المعجزات‘‘اور’’الخصائص‘‘کا حوالہ نہیں دیااور حوالہ بھلاکیادیتاکہ اس نے تومیری دونوں کتابیں پوری کی پوری نقل کررکھی ہیں۔اگر اس کے پیش نظر دیانت و امانت کے تعلق سے اسلامی ہدایات و تعلیمات ہوتیں،توایسا نہ کرتا،اسی طرح اگر اس نے مال و دولت کمانے کے لیے یہ حرکت کی ہے،توبھی اس کے پیش نظر اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہونا چاہیے تھاکہ’’وہ رزاق ہے‘‘۔پھر کہتے ہیں کہ میں نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر مبہم اندازِ بیان اختیار کیاہے،جس کی وجہ سے ہوسکتاہے کہ بعض قارئین کو ان مقامات پر اشکال پیدا ہو،میں تو اس اشکال کے جواب سے واقف ہوں؛لیکن جس شخص نے چوری کرکے کتاب تیار کی ہے،اگر اس کے سامنے کسی نے اشکال کیا،تووہ کیاجواب دے سکے گا؟اس کے بعدایسے ہی ایک مسئلے پر بحث کی ہے کہ نبی اکرمﷺ کوعلمِ شریعت و حقیقت دونوں کا کلی علم تھایانہیں،اس بارے میں قدرے طویل گفتگو کی ہے اور لکھاہے کہ اس سارق سے پوچھناچاہیے کہ’’وجمعت لہ علم الشریعۃ والحقیقۃ‘‘(یہ سیوطی کی الخصائص کی عبارت ہے اور وہیں ناقل نے اٹھایاتھا)کہناکیسے درست ہوسکتا ہے،جبکہ حضرت موسی و خضر علیہماالسلام کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاکوشریعت کا توکلی علم ہوتاہے؛لیکن حقیقتِ اشیاکاعلم نہیں ہوتا؟اس کا انھوں نے تفصیلی جواب دیاہے،جس کے ذکر کایہاں موقع نہیں۔
پھراپنے موضوع پر لوٹتے ہوئے لکھتے ہوئے ہیں کہ مجھے یہ بھی پتاچلاہے کہ اس نے جوکچھ میری کتابوں سے نقل کیاتھا،اسے میری طرف منسوب کرنے کو آمادہ ہوگیاتھا،مگر بعض لوگوں نے اسے گمراہ کیا اور اس کے ذہن میں یہ بات ڈالی کہ تم نے جوکیاہے ،ٹھیک کیاہے اور کسی حوالے وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ لکھتے ہیں کہ یہ حرکت اس نے علامہ سخاوی کی کتابوں کے ساتھ بھی کی تھی،جس کی انھیں خبر لگ گئی ،تو انھوں نے زبردست پھٹکار لگائی اور دھمکی دی،جس کے بعد اس نے اپنی حرکت سے رجوع کرلیا،پھرایک عجیب واقعہ یہ رونما ہواکہ اس نے خلیفہ متوکل علی اللہ(819-903ھ)کے سامنے حلفیہ کہاکہ اس نے میری کتابیں دیکھی تک نہیں ہیں۔
اخیر میں لکھتے ہیں کہ اس سارے حادثے کے باوجود اگر وہ شخص اپنی خیانت سے توبہ کرلے،تومیں اسے معاف کردوں گا،اگر اسے میری مزید کسی کتاب کی ضرورت ہوگی،تومیں اسے دینے کے لیے تیار ہوں،اگر میری کسی بات کو اسے سمجھنے میں پریشانی ہوگی،تواسے سمجھاسکتاہوں اور میری کتابوں سے نقل کرنے میں جہاں جہاں اس سے غلطی ہوئی ،اس کی اصلاح بھی کردوں گا؛لیکن اگر اس نے اپنی خیانت و علمی بد عہدی پر اصرار کیا اور اپنے اس جرم پر مصر رہا،تومیری نگاہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں، وہ ایک جاہل اور خائن انسان ہے،میرے بس میں ہو،تواس کی پیشانی پر لکھ دوں :’’إن اللہ لایہدي کید الخائنین‘‘(یوسف:12) اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کے مکروفریب کوکامیاب نہیں کرتا۔
پس نوشت:
اس پورے کتابچے سے چند چیزیں معلوم ہوتی ہیں:ایک یہ کہ علمی سرقے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے،بہت پرانی ہے اوراُس زمانے سے جاری ہے،جب مسلم اربابِ فکر و تحقیق اور اہلِ تصنیف و تالیف کی بہ دولت انسانی دنیا میں علم و تحقیق کا دور اپنے عروج پر تھااور یہ سرقے علم و ادب و فکر کے ہر شعبے میں کسی نہ کسی سے صادر ہوتی رہتے تھے۔سیوطی نے جن لوگوں کا ذکر بہ طور علمی سارق کیاہے،وہ سب اپنے دور میں معمولی لوگ نہیں تھے،علم و ادب کے شعبے میں نام دارو کام دار تھے اور ان کی شہرت بھی تھی،مقاماتِ حریری کے ایک تمثیلی واقعے سے بھی یہ معلوم ہوتاہے کہ اس زمانے میں ادبی سرقوں کے واقعات سامنے آتے رہتے تھے اور ساتھ ہی ایسا کرنے والوں کی تنبیہ کا سلسلہ بھی جاری تھا۔علامہ سیوطی نے اپنی کتابوں کے سرقوں کی جو بات کی ہے،وہ یہ نہیں ہے کہ ان کی کوئی تخلیقی تصنیف یا عبارت نقل کرنے والے نے بغیر حوالہ نقل کردیاتھا؛بلکہ وہ احادیث و آثار تھے،جو انھوں نے حضورِ اکرمﷺکی خصوصیات کے تعلق سے اپنی کتابوں میں جمع کیے تھے،ظاہر ہے کہ وہ انھوں نے کسی نہ کسی کتاب یا محدث سے ہی نقل کیا ہوگا؛لیکن چوں کہ وہ نقل کرنے میں سبقت کرنے والے تھے اور ان کے خیال میں دوسرے نے ان کی کتابوں سے ہی وہ روایات نقل کی تھیں؛اس لیے بعد میں جو شخص نقل کررہاتھا،اس کی دیانت داری کا تقاضاتھا کہ وہ سیوطی کے حوالے سے اس اولین منقول عنہ کا حوالہ دیتا۔وہ ناقل کون تھا؟اس سلسلے میں مصنفین و محدثین کے سوانحِ حیات پر مشتمل کتابوں میں عموماً ارشاد الساری والے علامہ شہاب الدین قسطلانی کانام آتاہے،کشف الظنون، شذرات الذہب اور فہرس الفہارس والأثبات وغیرہ میںیہ بھی لکھاہے کہ سیوطی اور قسطلانی کایہ معاملہ شیخ الاسلام زکریاانصاری(823-926ھ)کے پاس پہنچا،توانھوں نے سیوطی سے کہاکہ آپ اپنا مدعابیان کیجیے،توانھوں نے کہاکہ میں نے اپنی کتابوں میں بیہقی کے حوالے سے خصائصِ نبویﷺکے سلسلے میں ایسی روایات نقل کی تھیں،جو مجھ سے قبل اور کسی نے نقل نہیں کی،مگر انھوں نے اپنی تالیفات میں میراحوالہ دیے بغیر براہِ راست بیہقی کے حوالے سے ان روایات کو پیش کیاہے ، حالاں کہ مجھے یقین ہے کہ ان تک میری کتابوں سے قبل بیہقی کی وہ روایات نہیں پہنچی ہوں گی ۔ایک واقعہ جو پہلے ذکر بھی کیاجاچکاہے کہ اخیر میں قسطلانی نے علامہ سیوطی سے معاملے کو رفع دفع کرنے یا ان سے معافی مانگنے کا ارادہ کیا اور ان کے گھر ’’روضۃ المقیاس‘‘پہنچے،مگر انھوں نے دریافت کرنے کے بعد اندرہی سے انھیں جواب دے کررخصت کردیاکہ میرادل تمھاری طرف سے صاف ہوچکاہے،اس سے بھی لوگوں نے یہ طے کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ رسالہ سیوطی نے انہی کے بارے میں لکھاہے ،پھرسوال یہ پیداہوتا ہے کہ یہ عمل علامہ قسطلانی نے اپنی کسی ایک تصنیف میں کیایاکئی کتابوں میں وہ ایسا کرچکے تھے ؟شیخ الاسلام زکریاانصاری والے واقعے کے ضمن میں صاحبِ شذرات الذہب نے تومطلق لکھاہے کہ ’’سیوطی علامہ قسطلانی کی تحقیرکرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ان کی کتابوں سے بغیر حوالہ دیے نقل کرتے رہتے ہیں‘‘(ج:8،ص:122) البتہ اِس رسالے کے مرتب نے نشان دہی کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کتاب’’المواہب اللدنیۃ‘‘ تھی،جوپہلی بار899ھ میں شائع ہوئی ،اس میں جومعجزات و خصائصِ نبویﷺکے ابواب ہیں ، انہی کے بارے میں سیوطی کاالزام تھاکہ قسطلانی نے ان کی کتابوں سے نقل کیے ہیں،قابلِ ذکر ہے کہ یہ کتاب سیرت کے موضوع پر مستند مآخذمیں شمار کی جاتی ہے،علامہ قسطلانی کی یوں تودسیوں تصانیف ہیں،مگر سب سے زیادہ مقبولیت اسی کتاب کو حاصل ہے،علماکی جانب سے اس کی تلخیص و تشریح و ترجمہ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
علامہ سیوطی کے بارے میں جیساکہ ہم نے پہلے لکھاہے کہ ان کے سوانح نگاروں کے بہ قول وہ نہایت زود رنج،تندمزاج اور معاصرین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے حد درجہ بخیل واقع ہوئے تھے؛چنانچہ ہمیشہ وہ کسی نہ کسی کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتے بولتے رہتے تھے، ایک دوسرے معاصر اور معروف محدث و مؤرخ علامہ شمس الدین سخاوی سے بھی ان کی علمی جھڑپیں رہیں،سخاوی نے بھی انھیں نہیں چھوڑا،نتیجہ یہ ہواکہ سخاوی نے الضوء اللامع(ج:4 ، ص: 65-70)میں تفصیل سے سیوطی پر تحریری حملے کیے اور ان پر اساتذہ و شیوخ کی بے احترامی اور علمی سرقہ کا الزام لگایا ،لکھاکہ انھوں نے بہت سے پرانے مصنفوں کی کتابوں کوجوگم نام ہوگئی تھیں،اپنی طرف منسوب کرکے چھپوالیاہے،ظاہر ہے کہ سیوطی کہاں خاموش رہنے والے تھے، انھوں نے کسی لحاظ کے بغیر ان پربھی حملے کیے اور باقاعدہ ایک کتابچہ’’الکاوي في تاریخ السخاوي‘‘لکھ کران پر بھی کئی علمی الزامات لگائے،پھر یہ سلسلہ انہی دونوں تک محدود نہ رہا، ان کے شاگردومعتقدین بھی میدانِ کارزار میں آگئے اور دونوں کے مدح و ذم میں کئی مقالے،کتابچے اور رسالے لکھے گئے،ان تمام کا تذکرہ اِس کتابچے کے مرتب ہلال ناجی نے اپنے مقدمے میں کیاہے۔بہر کیف یہ ایک دلچسپ علمی رسالہ ہے اور اہلِ علم کے باہمی مناقشوں پر روشنی ڈالتاہے۔
جیساکہ پہلے ذکرکیاگیاکہ دنیاے علم و تحقیق میں حقوقِ تصنیف و تالیف کے سلسلے میں باقاعدہ کوششیں انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں،مگر سیوطی کے اس رسالے سے پتاچلتاہے کہ چودہویں پندرہویں صدی میں ہی عباسی دور کے اہلِ علم و ادب نے اس موضوع پر توجہ دینی شروع کردی تھی اور اس پر ایک سیوطی ہی نہیں ،ان کے علاوہ اوربھی کئی لوگوں نے اسی دور میں کتابیں لکھیں اور علمی و تصنیفی دیانت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔اس طرح کی چیزیں ہمارے مطالعے میں رہنی چاہئیں؛تاکہ ہم خود بھی علمی اخلاقیات متصف ہوں،ساتھ ہی اپنے اندر یہ جرأت بھی پیداکریں کہ اگر کسی سے جان بوجھ کر علمی بد دیانتی کا صدور ہورہاہے،توفوراً اس کی نشان دہی کریں،ایسا کرنے والے کی حوصلہ شکنی کریں اور تحریری و تقریری طورپر ایسے لوگوں کو بے نقاب کریں؛تاکہ تصنیف و تحقیق جیسے عملِ عالی کی آبروقائم رہے۔