علمی سرقے پر ابن الکتب جلال الدین سیوطی کاایک دلچسپ رسالہ

(دوسری قسط)
نایاب حسن
علامہ سیوطی کے سوانح نگاروں نے ان کے بارے میں لکھاہے کہ وہ مزاج و نہاد کے اعتبار سے ذرا سخت تھے اور بعض مخصوص وجوہات کی بناپر اپنے معاصرین میں سے کم ہی لوگوں کوتسلیم کرتے یا ان کی تعریف کرتے تھے،شایداسی وجہ سے اِس رسالے میں انھوں نے سرقہ کرنے والے کے خلاف جو زبان استعمال کی ہے،اس میں غیر معمولی ترشی ہے،لب و لہجہ تنبیہی،دھمکی آمیز،زجرو توبیخ سے مملو اور سخت ترین ہے،رسالے کا آغازآیتِ کریمہ’’إن اللہ یأمرأن تؤدوالأمانات إلی أہلہا‘‘ (النساء:4)سے ہواہے اور اسی سے انھوں نے واضح کرناچاہاہے کہ جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے مالی امانتوں کے حوالے سے یہ حکم دیاہے کہ جس کی امانت ہو،اسے لوٹادیاجائے،اسی طرح معنوی،علمی امانتوں پر بھی یہ اصول نافذہوتاہے اور اگر کوئی شخص لکھنے پڑھنے کے مہتم بالشان عمل میں کہیں سے کوئی استفادہ کرتاہے ،تواس آیتِ کریمہ کے بہ موجب اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی تحریر یا تقریر میں مستفاد منہ کا حوالہ دینے کا اہتمام کرے،پھراصل متن یوں شروع ہوتاہے:
ہل أتاک حدیث الطارق، وما أدراک ماالطارق؟الخائن السارق،والمائن المارق،الذی توصل إلینا بأولاد الحنفاء،وتوصل إلینا بأبناء الخلفاء،فأوسعناہ بشرا،فقابلہ بجفا،وعاملنا بغدرإذعاملناہ بوفا،وتطفل علینا فی الموائد،فأنعمنالہ بشيء ممالدینا من الفوائد،وأذنالطلبتنا أن یسمحوالہ بإعارۃ مصنفاتنا الدررالفرائد،إکراما لمن تشفع بہ من بنی العباس،وإبرامالحبل ودادہم الذي ہو عندنا محکم الأساس،وتفادیالرد شفاعۃ ہذہ السلالۃ الذین ہم رؤوس الأشراف وکواہل الناس،فماکان من ہذاالعدیم الذوق إلا أنہ نبذ الأمانۃ وراء ظہرہ وخان،وجنی ثمار غروسنا وہوفیما جناہ جان،وافتض أبکارعرائسنا اللاءي لم یطمثہن في ہذاالعصرإنس قبلنا ولاجان،وأغارعلی عدۃ کتب لناأقمنافي جمعہاسنین‘‘۔(ص:33)
(آپ کورات کے وقت دستک دینے والے کی کچھ خبر ہے؟آپ کوکیاپتاکہ وہ کون شخص ہے،وہ ایک خائن،چور،جھوٹا اور بد اطوارانسان ہے،جس نے کچھ شریف زادوں اور ابناے خلافت کے ذریعے ہم تک پہنچنے کی شش کی،توہم نے اس کا خوش دلی سے استقبال کیا،جبکہ اس نے تنگ دلی کا مظاہرہ کیا،ہم نے اس سے وفاداری کی،تواس نے بے وفائی کی،ہمارے دسترخوان(علم) پرطفیلی بن کر آیا،توہم نے اسے نوازا اور اپنے طلبہ کو اجازت دی کہ وہ اسے ہماری یکتاموتی جیسی کتابیں بہ طور عاریت دے دیں،یہ دراصل ہم نے ان لوگوں کے احترام اوران کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات کو استوار کرنے کے مقصد سے کیا،جن سے اس نے سفارش کروائی تھی،ہم یہ چاہتے تھے کہ ان اَشراف واہلِ قیادت کے خانوادے کی سفارش رد نہ کریں،مگر اس بے ذوق انسان نے امانت داری کو پس پشت ڈال دیااور بدعہدی کی،اس نے مجرمانہ انداز میں ہمارے پودوں کا پھل توڑا،اس نے ہماری ایسی باپردہ (علمی)خواتین کی بکارت زائل کردی،جنھیں اس سے پہلے نہ توکسی انسان نے ہاتھ لگایاتھا،نہ کسی جن نے،اس نے ہماری کئی ایسی کتابوں پر دھاوابول دیا،جن کی ہم نے کئی سالوں میں جمع وتالیف کی تھی)
اس کے بعد انھوں نے لکھاہے کہ اس شخص نے میری دوکتابوں’’المعجزات‘‘اور ’’الخصائص‘‘(مطول و مختصر) میں سے سرقہ کیاہے اور اپنی کتاب میں اس نے لکھاہے کہ یہ چیزیں’’میں نے تلاش کی ہیں ،میں نے جمع کی ہیں اور مجھے ملی ہیں‘‘حالاں کہ میں نے گزشتہ بیس سال سے مسلسل اپنے مطالعہ اور کتابوں کی تحقیق کے ذریعے خصائصِ نبوی کی تلاش و جستجوکی،یہاں تک کہ میرے علم کے مطابق حضور اکرمﷺکے خصائص کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی۔علامہ سیوطی کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے خصائصِ نبویﷺکی تلاش میں تفسیر،حدیث ،ان کی شروحات ،چاروں فقہی مسالک کی فقہ ،اصول فقہ اور تصوف و سلوک کے علاوہ دیگر موضوعات کی کتابوں کی تحقیق کرکے ان خصائص تک رسائی حاصل کی ۔اس کے بعد ان کا دعویٰ ہے کہ اس موضوع پر سب سے بڑی اور جامع کتاب علامہ نووی (631-676ھ)کی’’روضۃ الطالبین و عمدۃ المتقین‘‘ہے،مگراس میں میری کتاب کے بالمقابل دس فیصد خصائص بھی بیان نہیں کیے گئے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ اس موضوع پر میرا مطالعہ اب بھی جاری ہے اور میں مزید اضافے کی کوشش میں ہوں،پھروہ سارق کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس شخص نے میری کتاب سے لفظ بہ لفظ سرقہ کیاہے اور افسوس ہے کہ اس نے لکھاہے کہ یہ خصوصیاتِ نبوی میں نے خود تحقیق کرکے حاصل کیے ہیں،حالاں کہ یہ جھوٹ ہے اوراس نے میری کتاب سے نقل کیاہے۔(ص:34)
سرقہ پر علامہ سیوطی نے کئی دلیلیں بھی دی ہیں،مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ جہاں جہاں میں نے کسی مسئلے کے بیان کو مبہم رکھاہے،وہاں اس شخص نے بھی مبہم اندازِ بیان اختیار کیاہے۔اسی طرح علامہ سیوطی نے کتاب عاریت پر دینے کے بعد اس میں مزید دوسوخصوصیات کا اضافہ کیاتھا،چوں کہ یہ اضافے اس شخص کے ہاتھ نہیں لگ سکے؛اس لیے پہلے انھوں نے جتنے خصائص کا ذکر کیاتھا،اس نے اتنے ہی پر انحصارکرلیا۔
اس کے بعد انھوں نے تصنیف وتالیف کے سلسلے میں کچھ اصول کی طرف اشارہ کیاہے،اولاً ایک حدیث نقل کی ہے،جس میں ارشاد فرمایاگیاہے کہ:
’’تناصحوافي العلم؛فإن خیانۃ أحدکم في علمہ کخیانتہ في مالہ‘‘(جامع الصغیر للسیوطی،ج:1،ص:133)
(علم کے سلسلے میں نصیحت پکڑو؛کیوں کہ تم میں سے کسی کا علم میں خیانت کرنامال میں خیانت کرنے کے برابرہے)
اس حدیث سے تصنیف و تالیف کے باب میں استدلال ایسا ہی ہے،جیسا کہ اوپر ذکر کردہ امانت والی آیت سے اور اس میں توحضورﷺنے صراحت فرمادیاہے کہ جس طرح مال میں خیانت درست نہیں ہے،حرام ہے،اسی طرح علم کے سلسلے میں بھی خیانت کرنا حرام ہے ،اب اس علمی خیانت کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں،جن میں سے ایک کا ذکر تو اسی حدیث کے اس حصے میں میں مذکور ہے،جسے علامہ سیوطی نے یہاں حذف کردیاہے،وہ حصہ یہ ہے’’ولایکتم بعضکم بعضا‘‘یعنی تم میں سے کوئی کسی سے اپنے علم کو نہ چھپائے،اگرکوئی صاحبِ علم ہے،تووہ دوسروں کو اپنے علم سے فائدہ پہنچائے،اگر وہ ایسا نہیں کرتا اور اپنے علم کو چھپاتاہے،توگویا وہ علمی خیانت کرنے والاہے!علامہ سیوطی یہاں اس حدیث کے ایک دوسرے مفہوم کی طرف بھی اشارہ کررہے ہیں ،وہ یہ کہ کسی کی بات کو بغیر حوالہ کے نقل کردینا،یہ بھی علمی خیانت ہے اور ایسا کرنے والا اس حدیث کے مطابق ایک ناجائزاور حرام عمل کا ارتکاب کررہاہے اوراس کے لیے وہی وعیدیں ہیں،جو امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے بیان کی گئی ہیں۔
اس کے بعد علامہ سیوطی نے ایک اثربھی نقل کیاہے’’برکۃ العلم عزوہ إلی قائلہ‘‘(علم کی برکت اس میں ہے کہ اسے اس کے اصل قائل کی طرف منسوب کیاجائے)یہ قول کس صحابی کا ہے،اس کی صراحت نہیں کی ہے،ہلال ناجی حاشیے میں لکھتے ہیں ’’لم أظفربہ‘‘یہ قول انھیں کہیں دوسری جگہ نہیں ملا، مجھے بھی نہیں ملا،بہر کیف بات باوزن ہے اور علامہ سیوطی نے اثر کے طورپرہی کہیں پڑھایاسناہوگا؛اس لیے نقل کیاہے۔
اس کے بعد عظیم محدث و فقیہ اسماعیل بن یحیٰ مزنی،امام الحرمین ،عبدالکریم بن محمد الرافعی وغیرہ کے طرزِ تصنیف و تالیف سے استدلال کیاہے کہ ان حضرات نے اپنی کتابوں میں جہاں بھی کسی کا قول نقل کیاہے،تواس کا حوالہ دیاہے،حتی کہ امام مزنی نے اپنی ’’مختصر‘‘کا آغاز امام شافعی کے انداز سے کیا،توانھوں نے لکھا:کتاب الطہارۃ،قال الشافعي:قال اللّٰہ تعالیٰ:وأنزلنامن السماء ماء اً طہورا‘‘۔ظاہر ہے کہ یہ آیت انھیں براہِ راست قرآن پاک میں مل جاتی اور وہ سیدھے طورپر’’قال اللہ‘‘سے اپنی بات شروع کرسکتے تھے،مگر چوں کہ یہ طریقہ ان سے قبل امام شافعی نے اختیار کیاتھا؛اس لیے انھوں نے امام کا حوالہ دینا ضروری سمجھا ،اسی طرح امام نووی نے بدعت کی تقسیم کے سلسلے میں اپنے معاصر عزالدین بن عبدالسلام(578-660ھ) کی کتاب ’’قواعدالاحکام‘‘سے استفادہ کیا،توباقاعدہ ان کانام لے کراس کی وضاحت کی۔(ص:37)
پھر لکھتے ہیں کہ کوئی بھی مصنف ،چاہے وہ جس دورکابھی ہو،اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھتاہے،یاتووہ قرآن و حدیث سے استفادہ کرکے کوئی اصول وضع کرتاہے،پھر اس پر اپنے دعوے کی بنیاد رکھتاہے یاوہ کسی پہلے سے موجود مسئلے پر ایسی آیت یا حدیث سے استدلال کرتاہے،جس کی طرف پہلے کسی کا دھیان نہ گیاہو،خصائصِ نبویﷺاسی دوسری قسم کے مسائل سے تعلق رکھتے ہیں،پہلے ایک طبقے نے احادیث و آیات کی روشنی میں نبی پاکﷺ کی خصوصیات کو جمع کیا اور ان پر کتابیں لکھی،پھر بعد میں بھی مختلف لوگوں نے قرآن و حدیث کے ذخیرے سے نبی اکرمﷺ کے ایسے خصائص دریافت کیے ،جہاں تک پچھلے لوگوں کی رسائی نہیں ہوسکی تھی؛لیکن ان کے بعد کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہوگا کہ وہ یہ سمجھ کر کہ یہ خصوصیات توآیات و احادیث میں موجودہی تھیں،ان کا استخراج کرنے والے ائمہ کانام گول کرجائے؛بلکہ علمی دیانت کا تقاضایہ ہے کہ ان میں سے ہرخصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے مستنبط کرنے والے کا حوالہ دینا چاہیے،ائمۂ سابقین کا یہی طریقہ رہاہے اور اسی طرح انسان کا علمی وقار و اعتبار قائم ہوتا ہے۔(ص:38)
علامہ سیوطی اس کے بعد اپنے بارے میں بتاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی کتاب میں احادیث اور آیاتِ قرآنیہ کی روشنی میں بہت سی ایسی خصوصیاتِ نبویﷺ کا ذکرکیاہے،جواس سے پہلے اس موضوع کی کتابوں میں مذکورنہیں تھیں اور ان کے نقل میں میں نے ائمۂ سابقین ومجتہدین کے طرزِ عمل کو اختیار کیا ہے، جہاں سے جس حدیث کی تخریج کی ہے،اس کا حوالہ دیاہے اور اگر کسی روایت کی اصل تک نہیں پہنچ پایا،توجہاں وہ روایت ملی ہے،اس کا حوالہ دیاہے۔ لکھتے ہیں کہ عبدالرحیم بن علی بن حسن اِسنوی(704-772ھ) نے اپنی کتاب ’’المہمات‘‘میں اپنے شاگردزین الدین عراقی( 725-806ھ)سے نقل کیاہے اور حوالے کے ساتھ نقل کیاہے،اس سے استاذاور شاگرد دونوں کے بلند مرتبہ ہونے کا پتاچلتاہے۔اس سلسلے میں وہ اپنے استاذ حافظ ابن حجر عسقلانی(773-852ھ) کے طرزِ عمل کا اہتمام سے حوالہ دیتے ہیں، لکھتے ہیں کہ جب حافظ صاحب اپنے طلباکو پڑھاتے اور دورانِ درس کسی کی روایت کردہ حدیث نقل کرتے یااس کی تخریج کا حوالہ دیتے اوراس کی اصل کا انھیں علم نہ ہوتا،تووہ اپنے شاگردوں سے کہتے کہ آیندہ جب تم اپنے شاگردوں کو پڑھانا یااس روایت کوتحریری طورپر نقل کرنا تویوں کہنا’’رواہ فلان أوخرج فلان بإفادۃ شیخنا ابن حجر‘‘کہ میرے شیخ؍استاذ ابن حجر کے واسطے سے فلاں کی روایت یا تخریج مجھ تک پہنچی ہے۔علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ حافظ صاحب ایسا غایت درجہ علمی احتیاط ودیانت داری کے زیر اثر اور خیانت و بددیانتی سے بچنے کے لیے کرتے تھے،حدیث و قرآن کی تعلیمات بھی یہی ہیں اور ظاہر ہے کہ جس نے کوئی تحقیق پہلے کی ہے اور آپ اس سے استفادہ کررہے ہیں ، تواول الذکر کا حق ہے کہ آپ اس کے تئیں احسان شناسی کا ثبوت دیں ، اپنی تقریر و تحریر میں اس کا حوالہ دیں،اس کی افضلیت و اولیت کو تسلیم کریں ،اس سے آپ کے علم میں برکت بھی ہوگی اور اس کی نافعیت کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آپ کی چوری کبھی بھی پکڑی جاسکتی ہے اور پھر آپ کو بسااوقات ذلت و شرمندگی کابھی سامنا کرنا پڑسکتاہے یا جس کامال آپ نے چوری کیاہے،اس کی بددعاؤں کی زدمیں آپ آسکتے ہیں ،اس سلسلے میں علامہ سیوطی نے تین واقعات نقل کیے ہیں،ایک امام ابوحامد اسفرائینی (344-406ھ) کا ، جسے علامہ تاج الدین سبکی(727-771ھ) نے نقل کیاہے کہ ایک مجلس میں کسی کے بارے میں یہ ذکر آیاکہ اس نے بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں،توامام اسفرائینی نے کہاکہ:لاؤ،ذرامیں بھی اس کی کتابیں دیکھوں،جب انھوں نے دیکھا،توپتاچلاکہ وہ ساری کتابیں خود امام اسفرائینی کی تصانیف سے سرقہ شدہ تھیں،یہ دیکھ کر امام اسفرائینی کاماتھاٹھنکااور انھوں وہیں اس پر بددعاکی کہ:بترکتبي،بتراللّٰہ عمرہ‘‘کہ اس شخص نے میری کتابوں سے کاٹ چھانٹ اور چوری کرکے اپنی کتابیں تیار کیں،اللہ اس کی زندگی کوکاٹ چھانٹ کر مختصرکردے،لوگوں نے دیکھاکہ وہ شخص چند سال بعدہی وفات پاگیا اور اس علمی مقام و مرتبے سے محروم رہا،جو اس کے بہت سے معاصرین کو حاصل ہوا۔دوسراواقعہ امام ابوشامہ عبدالرحمن بن اسماعیل (599-665 ھ)نے لکھاہے کہ ان کی کتاب’’ البسملۃ‘‘سے کئی سارے خطیبوں نے بلاحوالہ لفظ بہ لفظ نقل کرکے کتابیں مرتب کیں؛چنانچہ ان سارقین کی کتابوں سے کسی کوکوئی فائدہ نہیں ہوااور وہ بے نام و نشان ہی رہیں۔ ایک تیسراواقعہ حافظ ابن حجرکا بیان کیاہے کہ ان کے ایک بڑے شاگردنے ان سے تاج الدین سبکی کی ’’طبقات الشافعیۃ الکبری‘‘پڑھنے کے لیے مانگی،ان کے پاس اس کا جو نسخہ تھا،اس پر انھوں نے جابجاحاشیہ چڑھایاتھا،اصل کتاب پر اپنے مطالعہ و معلومات کی روشنی میں اتنا اضافہ کیاتھاکہ وہ ایک مستقل تصنیف کی شکل اختیار کرسکتاتھا،ابن حجر نے اپنے اس’’بڑے شاگرد‘‘کو وہ کتاب پڑھنے کے لیے دے دی،وہ کتاب لے کر گئے،اصل کتاب سے جو کچھ استفادہ کرنا تھا،کیا،مگر اس کے ساتھ ہی اس پر ان کے استاذ نے جو حواشی چڑھائے تھے،انھیں بھی جو کا توں اٹھالیا اور بغیر حوالہ دیے اپنی کتاب’’اللمع الالمعیۃ لأعیان الشافعیۃ‘‘ (یہ سبکی کی طبقات کی تلخیص تھی)میں نقل کردیا،جب حافظ صاحب کو یہ معلوم ہوا،توانھوں نے خط لکھ کر ان کی کلاس لگائی اور لکھاکہ’’فقدحرمت بذلک خیرا کثیرا،وفضلا کبیرا‘‘(تم خیرِکثیر اورانعامات و افضالِ الہی سے محروم رکھے جاؤگے)سیوطی لکھتے ہیں :’’فواللہ ماطلعت لتلک الطبقات طالعۃ،ولا رآہاأکثرالناس،ولاطرق خبرہامسامعہم،وہکذاسنۃ اللہ فیمن أغار علی کتب المصنفین،ولم یؤدالأمانۃ من المؤلفین،أن یخمل ذکرہ،وذکر کتابہ،ویعدم النفع بہ فی الدنیاإلی یوم مآبہ‘‘ ۔(ص:40-42)
(بخدااس طبقات(یعنی جسے حافظ ابن حجر کے اس شاگرد نے مرتب کیاتھا)کو کوئی قبولیت نہیں ملی،نہ اکثر لوگوں نے اسے دیکھا،نہ اس کے بارے میں سنااور جو شخص دوسرے مصنفوں کی کتابوں پر ڈاکہ ڈالتا اور علمی بددیانتی کا مظاہرہ کرتاہے،اس کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ اسے اور اس کی کتاب کو گم نام و بے نشان کردے اور قیامت تک کے لیے اس کی نافعیت کوختم کردے) مرتب نے حافظ ابن حجر کے اس شاگرد کی تعیین قطب الدین محمد بن محمد الخیضری سے کی ہے اور علامہ سخاوی کی’’الضوء اللامع‘‘کے حوالے سے مذکورہ بالا واقعے کی نشان دہی کی ہے۔