علمی سرقے پرابن الکتب جلال الدین سیوطی کاایک دلچسپ رسالہ

(پہلی قسط)
نایاب حسن
گزشتہ دنوں میں ایک کتاب کا مطالعہ کررہاتھا،جس کانام ہے ’’مسلمانوں کا عروج و زوال کتابوں کے آئینے میں‘‘یہ دراصل مصری فاضل اور ایک امریکی یونیورسٹی میں قانون کے استاذ خالد ایم ابوالفضل کی انگریزی کتاب ’’دی کانفرنس آف بکس ‘‘کا ترجمہ ہے ،جو محمد یحیٰ خان نے کیاہے ،مشعل بکس، پاکستان سے شائع ہوئی ہے، دلچسپ کتاب ہے اور عہدِ رفتہ میں مسلم علما،فضلا ،حکما و دانشوران کے کتابوں سے بے پناہ شغف پر نہایت دلچسپ پیرایے میں گفتگو کرتی ہے ،اس کے پہلے مضمون میں دسویں صدی کے جید اہلِ علم و فضل علامہ عبدالرحمن جلال الدین سیوطی کا تذکرہ ہے ،جن کا ایک لقب ’’ابن الکتب ‘‘تھا؛کیوں کہ ان کی پیدایش کتابوں کے ڈھیر میں ہوئی تھی ،ان کے والد کمال الدین ا بوبکر بن محمد خود ایک اجل عالم تھے ،ایک رات وہ مطالعے کے لیے بیٹھے اور اپنی بیوی کوکتابوں کے کمرے سے کوئی کتاب لانے کوکہا،وہ کتاب لینے گئیں ،تو وہیں انھیں دردِ زہ اٹھا اور اسی کمرے میں لڑکے کی پیدایش ہوگئی ،وہی لڑکاآگے چل کر جلال الدین السیوطی کے نام سے سارے عالم میں مشہور ہوااور دنیاکی علمی تاریخ پر چھاگیا۔ ان سے ہم واقف تو پہلے سے تھے ،مگر ایک نصابی کتاب ’’جلالین‘‘کے واسطے سے ،جو قرآن پاک کا عربی ترجمہ یا مختصر تفسیر ہے،اخیر کے پندرہ پاروں کی تفسیر علامہ جلال الدین محلی کی ہے اور شروع کے پندرہ پاروں کی تفسیر علامہ جلال الدین سیوطی کی ہے ،مگر اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ہمیں ان کے ’’ابن الکتب ‘‘والے لقب کے بارے میں بتایانہیں گیاتھایاممکن ہے بتایاگیاہواور وہ میرے ذہن میں نہ رہاہو ،بہر کیف یہ جان کر ایک خوش گوار حیرت ہوئی کہ ان کا لقب ’’ابن الکتب ‘‘بھی تھا،پھر ان کے بارے میں مزید پڑھنے کی خواہش ہوئی اورپڑھا،تو معلوم ہواکہ انھیں اپنے زمانے میں کئی علوم و فنون میں درک حاصل تھا،جن میں تفسیر،حدیث،فقہ،نحو،معانی،معانی وبدیع سرِ فہرست ہیں؛بلکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ان علوم میں وہ مقامِ اجتہاد پر فائز ہیں،ملاعلی قاری نے ان کے بارے میں لکھاہے کہ انھوں نے اپنے زمانے میں پائے جانے والے ہر علم و فن پرکوئی نہ کوئی متن یا شرح لکھی ہے۔(مرقات المفاتیح،ج:۱،ص:۳۴۷)اسی علمی ہمہ جہتی کانتیجہ تھاکہ انھیں اپنے بارے میں یہ خیال بڑے زور سے پیدا ہواکہ وہ دسویں صدی کے مجدد ہیں؛بلکہ انھوں نے ایک سے زائد مرتبہ اس کا اظہار بھی کیااور جو ان کے شاگرد یا ان کے علمی و عملی مقام و مرتبے سے واقف لوگ تھے،انھوں نے اسے تسلیم بھی کیااور انھیں دسویں صدی کا مجدد قراردیا،ان میں سے ایک ملاعلی قاری بھی ہیں،وہ مرقات میں علامہ سیوطی کے فضل و کمال کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں:’’یستحق أن یکون ہوالمجددفي القرن العاشر کماادعاہ وہو في دعواہ مقبول ومشکور‘‘۔ (ایضا)
مولاباعبدالحی لکھنوی نے بھی موطاپراپنے حاشیے میں لکھاہے کہ "وہ اس لائق ہیں کہ انھیں دسویں صدی کامجددماناجائے، جیساکہ انھوں نے خودبھی دعوی کیاہے "ـ (فہرس الفہارس والأثبات، ص: ۱۰۱۹)
بہر کیف اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی زندگی نہایت دلچسپ ہے،چھ سال کی عمر میں یتیم ہوگئے،آٹھ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرلیا،پندرہ سولہ سال کی عمر میں عالم فاضل ہوگئے اور ایک کتاب لکھ دی ’’شرح الاستعاذۃ والبسملۃ‘‘جس پر ان کے استاذ شیخ سراج الدین بلقینی نے تقریظ لکھی تھی،ان کا قلم سیال تھا اور قوتِ تحریر بے مثال،علم و معلومات کی فراوانی اور مطالعہ و مشاہدہ کا وفور؛لہذا مسلسل لکھنے کا عمل جاری رہتا،ان کے شاگرد شمس الدین محمد داؤدی کابیان ہے کہ انھوں نے خود دیکھا کہ سیوطی نے ایک دن میں تین دفاتر(کاپیاں )لکھیں (الکواکب السائرۃ،ج:۱،ص:۲۲۸)’’حسن المحاضرہ‘‘علامہ سیوطی کی ایک کتاب ہے،جس میں انھوں نے مصر،بہ طورِ خاص قاہرہ کی تاریخ اور وہاں کی شخصیات کاتذکرہ لکھاہے،اس میں اپنے حالات بیان کرتے ہوئے انھوں نے اپنی تصانیف و تالیفات کی تعداد تین سوبتائی ہے،داؤدی کابیان ہے کہ ان کے شیخ کی تالیفات کی تعداد پانچ سوسے زائد ہے،تاریخ ابن ایاس میں چھ سولکھاہے(ج:۲،ص:۶۳)جبکہ احمد شرقاوی اقبال نے اپنی کتاب’’مکتبۃ الجلال السیوطی‘‘میں ان کی تصانیف کی تعدادسات سوپچیس تک پہنچائی ہے۔ان کی شخصیت کاایک پہلویہ بھی ہے کہ چالیس سال کی عمر میں ہر قسم کے جھمیلے سے فارغ ہوکر مصرکے روضہ نامی علاقے میں مقیم ہوگئے اور پوری یکسوئی کے ساتھ تصنیف و تالیف میں مشغول رہے،بڑے بڑے لوگ انھیں ہدایاتحائف بھیجتے اور وہ انھیں لوٹادیتے،ان کی زندگی میں یکے بعددیگرے ۱۳مملوک حکمرانوں کادورآیااورگیا،شاہانِ وقت نے انھیں کئی بار بلایا،توانھیں جھٹک دیا؛بلکہ اس پر بھی ایک کتاب لکھ دی’’مارواہ الأساطین فی عدم الترددالی السلاطین‘‘،ایک بار سلطان غوری نے انھیں ہدیتاً ایک ہزار دیناراور ایک غلام بھجوائے،توانھوں نے دینار لوٹادیااور غلام کو لے کر آزاد کردیااور ساتھ ہی بادشاہ کے آدمی کو تنبیہ کی کہ آیندہ ادھر نظر مت آجانا،ہمیں ایسے تحفوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے!
ان کی شخصیت پر لکھنے کے کئی پہلو ہیں اوران میں سے ہر پہلو دلچسپ ہے،مگر فی الحال ہمارے پیش نظر ان کاایک خاص کتابچہ ہے،جس کا علم ان کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہوااورچوں کہ یہ ایک اہم علمی چیزہے؛ اس لیے اس پرکچھ لکھنے کی بھی خواہش ہوئی ـ اس کتابچے کانام ’’الفارق بین المصنف والسارق‘‘ہے ،یہ ایک عرصے سے نایاب تھا،پھر ایک مخطوطے کی شکل میں بغداد کے مکتبۃ الاوفاق العامہ میں پایاگیا،اس کا ایک خطی نسخہ لائیڈن میں بھی ہے، اس مخطوطہ کو مشہور عراقی ڈپلومیٹ ،شاعر و ادیب اورعراقی مصنفین واہلِ قلم کی انجمن کے سابق سربراہ ہلال ناجی نے حاصل کرکے اپنی تحقیق و تخریج کے ساتھ شائع کیاہے،وہ لکھتے ہیں کہ:ہمیں یہ نادرمخطوطہ بغداد کے مکتبۃ الاوقاف العامہ میں مخطوطات کے ایک مجموعے کے ضمن میں ملا،جس کا نمبر۴؍۶۰۹۷تھا،اس پرکتابت کرنے والے کانام درج نہیں ہے اوراسے منسوب علامہ سیوطی کی طرف کیاگیا ہے،اس کا سالِ کتابت محرم ۹۷۷ھ (جون۱۵۶۹ء)درج ہے اور نام’’رسالۃ في سرقۃ کتب المؤلفین‘‘لکھاگیاہے، آٹھ صفحات پر مشتمل ہے۔پھرانھوں نے اس رسالے کا علامہ سیوطی کالکھاہواہونے اوراس کا صحیح نام’’الفارق بین المصنف والسارق‘‘ہونے کی آٹھ دلیلیں پیش کی ہیں،جومختصراًیوں ہیں:
۱۔رسالے کو پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ مصنف نے اس میں ایک ایسے شخص کے بارے میں گفتگو کی ہے،جس نے ان کی کتاب’’الخصائص‘‘ا(نبی اکرمﷺکی خصوصیات کے تذکرے پر مشتمل تصنیف)اور ’’المعجزات‘‘(آپؐ کے معجزات کی تفصیلات پر مبنی کتاب)سے سرقہ کرکے ایک دوسری کتاب لکھی تھی،سرقہ کرنے والا ان کاایک معاصر تھا،جس نے ان کی یہ دونوں کتابیں ان کے بعض شاگردوں سے حکمراں خانوادے کے بعض افراد کے ذریعے سفارش کرواکے منگوائی تھی اور پھر بغیر حوالے کے ان کے مضامین کو اپنی کتاب میں شامل کرلیاتھا۔
مختلف علماومؤرخین اوراصحابِ تذکرہ نے لکھاہے کہ سیوطی نے یہ الزام علامہ قسطلانی شہاب الدین احمد بن محمد الخطیب (جن کی صحیح بخاری کی شرح ارشاد الساری کے نام سے متداول ہے) پرلگایاتھا، انھوں نے سیرت پرنے ایک کتاب "المواہب اللدنیہ ” لکھی تھی،جس کا سن طباعت۸۹۹ھ(۱۴۹۳ء)ہے اور یہ کتاب علامہ سیوطی کی مذکورہ دونوں کتابوں کے بہت بعد لکھی گئی ہے،اس کتاب میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص ومعجزات کاجوحصہ ہے، اس کے بارے میں سیوطی نےدعوی کیاکہ قسطلانی نے ان کی کتابوں سے نقل کیاہے اورحوالہ نہیں دیاـ جن لوگوں نے بھی(مثلاً عبدالحی بن عبدالکبیر الکتانی نے فہرس الفہارس میں اورحاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں) مواہب اللدنیہ یا علامہ قسطلانی کا احوال لکھاہے،انھوں نے ان پر لگنے والے سرقہ کے الزامات کابھی ذکرکیاہے۔
۲۔اس مخطوطے میں ایک ایسا جملہ لکھاگیاہے،جوسیوطی کی’’الخصائص ‘‘میں بھی موجودہے’’لقدأقمت فی تتبع ہذہ الخصائص عشرین سنۃ الی أن زادت علی الألف‘‘(میں نے ان خصوصیات کی تلاش و جستجومیں بیس سال صرف کیے،یہاں تک کہ ان کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی)اس سے بھی ثابت ہوتاہے کہ اس مخطوطہ کے مصنف سیوطی ہیں اوراس کانام’’ الفارق بین المصنف والسارق ‘‘ہے۔
۳۔اس مخطوطے میں نبی اکرمﷺ کی ایک خصوصیت کا ذکر چھیڑاگیاہے کہ آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے شریعت و حقیقتِ اشیادونوں کاعلم دیاتھا،اس خصوصیت کا ذکر سیوطی نے اپنی کتاب’’الخصائص‘‘میں تفصیل کے ساتھ کیاہے اور اس پر ایک دوسرا کتابچہ’’شعلۃ النار‘‘کے نام سے بھی انھوں نے لکھاتھا۔
۴۔مخطوطہ کے مصنف نے اپنے بارے میں بتایاہے کہ وہ ’’روضہ‘‘میں قیام پذیر ہے اور یہ معلوم ہے کہ علامہ سیوطی نے اپنی آخری زندگی روضہ میں گزاری اور وہیں ان کی وفات بھی ہوئی تھی؛بلکہ اس پر ان کی ایک کتاب بھی ہے’’کوکب الروضۃ في تاریخ جزیرۃ الروضۃ‘‘۔
۵-حاجی خلیفہ نے کشف الظنون میں سیوطی کی تالیفات کے ضمن میں ’’الفارق…‘‘کا ذکر کیاہے۔
۶۔اسماعیل بغدادی نے بھی ہدیۃ العارفین میں ’’الفارق…‘‘ کو سیوطی کی کتابوں میں شمار کیاہے۔
۷۔کتانی نے علامہ قسطلانی کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھاہے کہ:میرے پاس ایک عجیب و غریب مقالہ ہے،جسے حافظ سیوطی نے صاحبِ ترجمہ (قسطلانی)کے تعلق سے تحریر کیاتھا،اس کانام الفارق بین المصنف والسارق ہے،شیخ جاراللہ بن فہد کی روایت ہے کہ علامہ قسطلانی نے بعد میں علامہ سیوطی سے تصفیہ کا ارادہ کیاتھا اور وہ قاہرہ سے علامہ سیوطی کے پاس روضہ گئے،ان کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،انھوں نے کہا:کون؟توقسطلانی نے جواب دیا:میں قسطلانی ہوں،ننگے پاؤں،ننگے سر آپ کی خدمت میں حاضر ہواہوں؛تاکہ میری طرف سے آپ کا دل صاف ہوجائے،توانھوں نے کہا:تمھارے تئیں میرا دل صاف ہوگیا اور نہ گھر کا دروازہ کھولا،نہ ان سے ملاقات کی۔(فہرس الفہارس،ص:۹۶۹،شذرات الذہب،ج:۸،ص:۱۲۳۔۱۲۲)
۸۔ کشف الظنون میں جہاں علامہ سیوطی کی تصانیف کے ضمن میں’’الخصائص‘‘کا تذکرہ ہے،وہیں یہ بھی لکھاہے کہ:کہتے ہیں کہ اس کتاب کو ان کے ایک معاصر نے اپنی طرف منسوب کرلیاتھا،جس کے خلاف سیوطی نے ’’الفارق بین المصنف والسارق‘‘کے نام سے ایک مقالہ لکھاتھا۔(ج:۱،ص:۷۰۵۔۷۰۶)
اس رسالے کے شروع میں ہلال ناجی نے علامہ سیوطی کی زندگی اور علمی و تصنیفی سرگرمیوں پر ایک مختصر،مگرقیمتی مقدمہ لکھاہے،اس کے علاوہ اس کتابچے پر جگہ جگہ معلومات افزا حاشیے لگائے ہیں اور اخیرمیں علامہ سیوطی کی تمام تالیفات کی ایک فہرست بھی مہیاکی ہے،جس کے مطابق علامہ سیوطی کی تمام تصانیف و تالیفات کی تعداد ۷۹۹؍تک پہنچتی ہے۔ان کی ان گراں قدرتحقیقات و تخریجات کے ساتھ یہ کتابچہ پہلی بار ’’عالم الکتب‘‘نامی بیروت کے نشریاتی ادارے سے ۱۹۹۸ء میں شائع ہواہے، ۶۵صفحات پرمشتمل ہے ـ
اس سلسلے میں ایک خاص بات قابلِ غور یہ ہے کہ علامہ سیوطی کا یہ رسالہ حقوقِ تصنیف و تالیف پر قانونی و فقہی حیثیت سے بحث کرنے والی اولین باضابطہ تحریرہے؛کیوں کہ انھوں نے یہ رسالہ پندرہویں صدی عیسوی میں لکھاتھا،جبکہ ادبی و فکری حقوق کے تحفظ پر پہلاعالمی معاہدہ،جو’’معاہدۂ برن‘‘کے نام سے مشہور ہے،وہ ستمبر۱۸۸۶ء میں عمل میں آیااوراس کے اگلے سال دسمبر سے اس کا نفاذ عمل میں آیااوراس موضوع پر باقاعدہ ایک تنظیم سرگرمِ عمل ہوئی،فی الوقت اس کے ۱۷۶؍ممبران ہیں۔